سولہ فلسطینی نوجوانوں کی ہلاکت پر یوم سوگ

فلسطین

فلسطین میں گزشتہ روز اسرائیل فوج کی فائرنگ میں کم از کم سولہ فلسطینی نوجوان کی ہلاکت پر ہفتے کو یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

'یوم الارض' کے موقع پر فلسطین مہاجرین کے اسرائیل میں اپنے گھروں کو لوٹنے کے حق میں چھ ہفتے طویل مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے پہلے روز ہزاروں فلسطین مظاہرین پر فائرنگ میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہو گئے تھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ میں سولہ فلسطینی نوجوانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

غزا سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں ہزاروں فلسطینی شریک ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گتریز نے اسرائیلی سرحد کے قریب شیلنگ سے 16 فلسطینیوں کی ہلاکت کے واقعے کی آزادنہ تحقیقات کرانے کا کہا ہے۔

جمعے کو غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے چھ ہفتے پر مشتمل احتجاج کے آغاز میں اسرائیلی سرحد کی طرف مارچ کیا جس کے نتیجے میں کم ازکم 16 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک ہنگامی اجلاس میں تشدد کی مذمت کی ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حفاظت کے لیے اقدامات میں مدد کریں۔

اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر پتھراؤ کرنے اور بم پھینکنے کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کے ساتھ پانچ مقامات پر 17 ہزار فلسطینی جمع ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوے کو روکنے کے لیے جس میں ٹائروں کو آگ لگائی جا رہی ہے فوجی صرف ان پر فائر کر رہے ہیں جو دوسروں کو ترغیب دے رہے ہیں۔

فلسطینیوں نے سرحد کے قریب پانچ مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیے ہیں۔ انھوں نے اس مارچ کو 'واپسی کے لیے عظیم مارچ' کا نام دیا ہے۔

فلسطینی میڈیا نے کہا کہ سرحد پر سات ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔

بعد ازاں اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے انتہاپسند گروہ حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولہ باری کے باعث ایک فلسطینی کسان ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جمعے کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے کے قریب ہوئی ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق مظاہرین پر آنسو گیس بھی پھینکی گئی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ نوجوان گروہوں نے احتجاج کرنے والے منتظمین کی احکامات کو نظڑ انداز کیا کہ وہ سرحدی باڑ کی جانب نہ بڑھیں۔

فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی سرحد کے ساتھ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کی کال کے بعد سے اس علاقے میں حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

غزہ میں بی بی سی کے پروڈیوسر رشدی ابوآلوف کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے کسان اور زخمی ہونے والا شخص کھیتوں میں موجود تھے کہ ٹینکوں سے کی جانے والی شیلنگ کی زد میں آ گئے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر ایک کسان کو مار کر فلسطینیوں کو ڈرانے کا الزام لگایا ہے تاکہ وہ ان مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔