گذشہ ایک صدی میں صحارا کے رقبے میں دس فیصد اضافہ

صحارا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحارا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے، لیکن یہ مزید پھیلتا چلا جا رہا ہے اور پچھلے ایک سو سال میں اس کے رقبے میں دس فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق صحارا جنوب کی طرف حرکت کر کے سوڈان اور چاڈ کے ٹراپیکل علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس سے سرسبز علاقے خشک ہو رہے ہیں اور کاشت کاری کے لیے مخصوص زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔

صحارا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحارا کا کل رقبہ 92 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جب کہ اس میں گذشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والا اضافہ پاکستان کے رقبے سے بھی زیادہ ہے۔

جرنل آف کلائمیٹ رسالے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے 1920 کے بعد سے افریقہ بھر میں ہونے والی بارش کا ریکارڈ اکٹھا کیا تو پتہ چلا کہ انسانوں کے ہاتھوں ماحول میں لائی جانے والی تبدیلی بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ عمل صرف صحارا تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دوسرے کئی علاقوں میں بھی یہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔

صحارا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحقیق میں شامل پروفیسر سمنت نگم نے کہا: 'یہ نتائج صحارا سے مخصوص ہیں لیکن ان کے دنیا کے دوسرے صحراؤں کے لیے بھی مضمرات ہیں۔'

دنیا کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ صحراؤں کے کناروں پر رہنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، لیکن صحراؤں کے پھیلنے سے ان کی کھیتی باڑی کا رقبہ صحرا کے نیچے آ رہا ہے۔

ایک اور تحقیق کار ڈاکٹر منگ کائی نے کہا: 'افریقہ میں یہ ہو رہا ہے کہ موسمِ گرما گرم تر ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ برسات کا موسم سکڑتا جا رہا ہے۔ اس کا تعلق ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار سے ہے۔'

صحارا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحارا کے پھیلاؤ کی وجہ سے آس پاس کی آبادیوں کی قابلِ کاشت زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں

۔

اسی بارے میں