امریکی ویزے کے لیے سوشل میڈیا کی تفصیل ضروری؟

سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو ہر اس سے ہرسال تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر ہوں گے

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ امریکی ویزے کے لیے ہر کسی کے سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کے اعداد و شمار حاصل کرنا چاہتی ہے۔

یہ تجویز امریکی وزارت خارجہ نے دی ہے اور اس کے تحت امریکی ویزے کے لیے درخواست گزار کو اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس کی تفصیل دینی ہو گی۔

انھوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں جتنے سماجی رابطے کی سائٹ کا استعمال کیا ہو گا اس کی تفصیل دینی ہو گی۔

ان معلومات کا استعمال ان کی شناخت اور سخت جانچ کے لیے کیا جائے گا اور یہ دونوں طرح کے ویزے امیگرینٹ اور غیر امیگرینٹ پر لاگو ہو گا۔

ویزے کے درخواست گزاورں سے گذشتہ پانچ برسوں میں ان کے استعمال کردہ ٹیلی فون نمبر، موبائل نمبر، ای میل اور سفر کی تفصیل بھی مانگی جائے گی۔ انھیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ آیا انھیں کبھی کہیں سے ملک بدر کیا گیا ہے اور کیا ان کا کوئی رشتہ دار کسی دہشت گردانہ سرگرمی میں تو ملوث نہیں رہا۔

اس نئی تجویز سے ان ممالک کے شہری متاثر نہیں ہوں گے جنھیں امریکہ بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دیتا ہے۔ ان میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ لیکن پاکستان، انڈیا، چین اور میسیکو جیسے غیر مراعت یافتہ ممالک کے شہری اس سے متاثر ہوں گے، خواہ وہ کام کے لیے امریکہ جائیں یا پھر سیر و تفریح کے لیے۔

خیال رہے کہ صدرٹرمپ کے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امریکہ میں داخلے سے قبل 'انتہائی سخت جانچ' کے وعدے کے بعد یہ سخت تجویز آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اس نئی تجویز سے ان ممالک کے شہریوں پر مزید بوجھ آئے گا جن کا امریکہ کے ساتھ ویزے کے استثنی کا معاہدہ نہیں ہے

وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گذشتہ سال مئی میں یہ اصول متعارف کرایا گیا تھا کہ ویزا دینے والے اہلکار ان افراد سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل مانگ سکتے ہیں جن کے بارے انھیں یہ گمان ہو کہ 'ان سے انھیں اس شخص کے بارے زیادہ تفصیلات حاصل ہوں گی تاکہ وہ قومی سلامتی کے تعلق سے زیادہ سخت جانچ کر سکیں۔'

اس تجویز کی منظوری کے لیے آفس آف مینیجمنٹ اینڈ بجٹ سے منظوری درکار ہو گی۔ اس پر فیصلے سے قبل عوام کو دو ماہ کا وقفہ اپنی بات کہنے کے لیے ملے گا۔

لیکن اس سے قبل ہی شہری آزادیوں کی تنظیموں نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے پرائیویسی پر حملہ قرار دیا ہے جس سے اظہار رائے کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی سول لبرٹیز یونین کی جنا شمسی نے کہا: 'اب لوگ اس بات پر حیرت زدہ ہوں گے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر جو کہا ہے اس کی غلط تشریح و تعبیر کریں گے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ہم لوگوں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ 'دہشت گردانہ سرگرمی' جیسے مبہم اور وسیع معنی و مفہوم والے اصطلاح کی کیا تعریف کرتی ہے کیونکہ یہ اپنے آپ میں سیاسی ہے اور اس کا استعمال ایسے تارکین وطن کے خلاف کیا جا سکتا ہے جنھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘

اسی بارے میں