روس نے مزید 50 برطانوی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

روس

برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو زہر دیے جانے کے بعد روس اور برطانیہ کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں اور ہفتے کو ماسکو نے روس میں 50 مزید برطانوی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے روس کے 23 سفارتکاروں کو ملک بدر کیے جانے کے بعد روس نے بھی 23 برطانوی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اب روس کا اصرار ہے کہ مزید 50 برطانوی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور روس کے ایک دوسرے کے ملک میں سفارتکاروں کی تعداد یکساں ہونی چاہیے۔

بی بی سی کے پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ سفارتکاروں کی یکساں تعداد کا مطلب ہے کہ کم از کم 27 مزید برطانوی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کے علاقے سیلیسبری میں سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو زہر دیا گیا تھا جس کا الزام برطانیہ نے روس پر لگایا تھا۔ تاہم روس اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

جمعہ کے روز ماسکو میں برطانوی سفیر لوری برسٹو کو مطلع کیا گیا کہ برطانیہ کے پاس ایک ماہ ہے جس میں برطانوی سفارتکاروں کی تعداد برطانیہ میں روسی سفارتکاروں کی تعداد کے برابر کریں۔

ہفتے کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا نے روئٹرز کو بتایا کہ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو 50 سے کچھ زیادہ برطانوی سفارتکاروں کو ملک واپس بلانا ہو گا۔

دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روسی جواب مایوس کن ہے لیکن ماضی میں روسی رویے کو دیکھتے ہوئے یہ روسی قدم متوقع تھا۔

دریں اثنا جمعہ کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر روسی ایئر لائن ایرو فلوٹ کے مسافروں کی مبینہ تلاشی پر روسی وزارت برائے ٹرانسپورٹ نے برطانیہ سے باضابطہ وضاحت مانگی ہے۔

’اگر اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں ہے تو برطانیہ کی اس کارروائی کو روس غیر قانونی تصور کرے گا اور روس کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ بھی برٹش ایئر ویز کے مسافروں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے۔‘

برطانیہ نے ابھی تک روسی جہاز کے مسافروں کی تلاشی کی تصدیق نہیں کی ہے۔