فلسطینی مظاہروں کا دوسرا روز، غزہ میں حالات کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل فوج کی طرف فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا

فلسطین میں 'یوم الارض' کے سلسلے میں مظاہروں کے دوسرے دن غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب فلسطینی مظاہرین پر اسرائیل فوج کی فائرنگ میں تیرہ مزید افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

فلسطین میں کئی برس بعد تشدد کے بدترین واقع میں سولہ فلسطینیوں کی ہلاکت اور ایک ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کے ایک دن بعد غزہ اسرائیلی سرحد پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے وہ ہفتے کو پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز جمعہ کو سولہ فلسطینیوں کی ہلاکت پر اسرائیل فوج کا کہنا تھا کہ مظاہرین میں شامل چند لوگوں کی طرف سے فائرنگ بھی کی گئی جب کہ کئی مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور جلتے ہوئے ٹائر فوج کی طرف لڑکائے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے غم میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا اور اس موقع پر غرب اردن میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

غزہ میں ہزاروں افراد نے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت کی اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلسطینیوں نے غزہ کی سرحد کے قریب عارضی خیمے لگا لیے ہیں

گزشتہ روز غزہ اور اسرائیل کے درمیان پینسٹھ کلو میٹر طویل سرحد کے سامنے دسیوں ہزار فلسطینی جمع ہوئے جہاں چھ ہفتوں تک ان مظاہروں کو جاری رکھنے کے لیے عارضی خیمے بھی لگا دیئے گئے ہیں۔ فلسطینی یوم الارض کے سلسلے میں ہونے والے مظاہروں میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کا حق مانگ رہے ہیں۔

اسرائیل فوج کے اندازوں کے مطابق ان مظاہروں میں 30 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

بہت سے فلسطینی خاندان اپنے ہمراہ بچوں کو بھی ان عارضی خمیوں تک لائے جن کے نام ان علاقوں اور دیہات پر رکھ گئے ہیں جہاں سے فلسطینیوں کو طاقت کے بل پر بےدخل کر کے نکال دیا گیا تھا۔

اس موقع پر ہزاروں فلسطینی نوجوان نے اسرائیل کی طرف سے بنائی گئی دیوار کی طرف مارچ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمعہ کو ہلاک ہونے والے سولہ نوجوانوں کی تدفین کی گئی

حماس اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی طرف سے منظم کیے گئے یہ مظاہرے پندرہ مئی تک چلیں گے جس دن کو فلسطینی نکبا یا قیامت کے طور پر مناتے ہیں اور جس دن سنہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل فلسطینیوں کی واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی اسرائیل کے زیرِ قبضہ اپنے علاقوں میں واپسی سے یہودی آبادی اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی مہاجرین جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان کو مستقبل کی فلسطینی ریاست میں آباد کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان سنہ 2014 کے بعد سے امن کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے بعد سنہ 2005 میں اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے نکال لی گئی تھی لیکن اس کے اطراف اسرائیل نے سخت سیکیورٹی کر رکھی ہے جبکہ مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر بھی بہت سختی برتی جاتی ہے۔

صدر محمود عباس کے ترجمان نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے بڑا واضح پیغام ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین ان کے جائز مالکان کی ہے اور اسرائیل کے قبضے کو ختم کیا جانا ہے۔

اسرائیل فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ حماس ان مظاہروں کے پردے میں اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں اگلے پندرھ دن تک کشیدگی برقرار رہ گی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں