شام: شدید زخمیوں کو دوما سے لے جانے کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption شام میں باغیوں اور حکومت کے درمیان سنگین طور پر زخمی افراد کو دوما سے لے جانے کا معاہد ہوا ہے

شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں حکومت اور باغی گروپ جیش اسلام کے درمیان مبینہ طور پر دوما سے سنگین طور پر زخمی افراد کے انخلا کا معاہدہ ہوا ہے۔

دوما مشرقی غوطہ میں باغیوں کے زیر قبضہ آخری گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ باغی گروپ جیش اسلام، مقامی رہنماؤں اور روس کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد ہی ممکن ہو سکا ہے۔

زخمیوں کو شمالی شہر ادلب لے جایا جائے گا جو کہ ابھی تک باغیوں کے قبضے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بمباری کا نشانہ مشرقی غوطہ

٭ شام میں جنگ زد علاقوں سے 60 ہزار افراد کا انخلا: اقوام متحدہ

دریں اثنا دوما کو فوجی کارروائی سے محفوظ رکھنے کے لیے شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ شامی فوج نے دوما کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

دوما پر قابض باغیوں نے وہاں آباد ہزاروں افراد کے انخلا کے لیے کی جانے والی کسی بات چیت سے انکار کیا ہے۔

انخلا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی غوطہ سے انخلا روس کی نگرانی میں جاری ہے

بہر حال عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کی رات گئے روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت زخمیوں کو اس علاقے سے لے جانے کی اجازت ہوگی۔

جبکہ باغیوں کو امید ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں انھیں ماسکو کی حفاظت میں دوما میں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ شامی فوج کی کارروائی، مشرقی غوطہ’تین حصوں میں تقسیم‘

٭ شام میں 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد منظور

دوسری جانب چھ ہفتوں کی بمباری کے بعد ہزاروں باغیوں کو 'محفوظ راہداری' کے معاہدے کے تحت شمالی شہر ادلیب جانے کا موقع ملا ہے۔

جبکہ شامی فوج نے کہا ہے کہ جو ابھی تک دوما کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہیں وہ دوما چھوڑ دیں یا پھر بھرپور حملے کے لیے تیار رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption بمباری کے بعد شامی سول ڈیفنس کے ایک اہلکار کو ایک زخمی کو اٹھا کر لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے

لاکھوں افراد نے شامی دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے کو اب چھوڑ دیا ہے جہاں کھبی 20 لاکھ افراد رہا کرتے تھے۔

شامی فوج نے باغیوں کو یہ پیشکش کی ہے کہ یا تو وہ ان کے ساتھ آ جائیں یا پھر سپر ڈال دیں اور حکومت کے قبضے والے علاقوں میں جا کر رہیں۔

فوج کے ایک ترجمان نے سنیچر کو ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ فوج نے دارالحکومت یمن سکیورٹی بحال کی ہے اور ملک کے باقی حصوں سے اپنے رابطے کا تحفظ کیا ہے۔

خیال رہے کہ شامی حکومت نے مشرقی غوطہ کا سنہ 2013 سے محاصرہ کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے وہاں کے حالات کو 'عرضی جہنم' قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں