ناکارہ چینی خلائی سٹیشن اگلے 24 گھنٹے میں زمین پر آ گرے گا

خلائی سٹیشن تصویر کے کاپی رائٹ CHINA MANNED SPACE AGENCY
Image caption تیانگونگ 1 کا بڑا حصہ کرۂ ہوائی میں داخل ہوتے ہی جل جائے گا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ناکارہ چینی خلائی سٹیشن کا ملبہ پیر کو زمین پر آ گرے گا۔

چین کے خلائی ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ ٹن وزنی یہ خلائی سٹیشن اگلے 24 گھنٹوں کے دوران زمین کے کرۂ ہوائی میں داخل ہو گا۔

تیانگونگ 1 نامی یہ مصنوعی سیارہ چین کے پرعزم خلائی پروگرام کا حصہ تھا اور 2022 میں ایک انسان بردار سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کی پہلی کڑی۔

چینی خلائی سٹیشن زمین پر کب اور کہاں گرے گا؟

اسے 2011 میں مدار میں چھوڑا گیا تھا اور پانچ سال تک اپنا مشن مکمل کر کے اسے واپس زمین پر گرنا تھا۔

یورپی خلائی ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق یہ خلائی سٹیشن دو اپریل بروز پیر رات 12 بج کر 25 منٹ پر کرۂ ہوائی میں داخل ہو گا (پاکستان میں صبح پانچ بج کر 25 منٹ پر)۔

زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ فضا میں جل کر تباہ ہو جائے گا، البتہ کچھ ملبہ زمین پر بھی گر سکتا ہے۔

انڈیا کا بھی خلائی سیٹیلائٹ سے رابطہ منقطع ہو گیا

دریں اثنا انڈیا کے خلائی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ تین روز پہلے خلا میں چھوڑی جانی والی خلائی سیٹیلائٹ سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگینائزیشن (آئی ایس آر او) کا کہنا ہے کہ وہ جی ایس اے ٹی ۔ 6 اے سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سیٹیلائٹ کا وزن دو ہزار ٹن ہے اور اسے انڈین ملٹری کے لیے بنایا گیا ہے۔

-------------------------------------------------------------------------------------------------------

چین کے خلائی ادارے نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ یہ 'فلمی انداز میں جلتا ہوا زمین سے نہیں ٹکرائے گا بلکہ شہابِ ثاقب کی پھوار کی طرح گرے گا۔'

چین نے 2016 میں تصدیق کی تھی کہ اس کا تیانگونگ 1 سے رابطہ منقطع اور کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔

یورپی خلائی ادارے کے مطابق تیانگونگ 1 43 درجہ طول بلد اور 43 درجہ عرض بلد کے درمیان گر سکتا ہے۔ یہ علاقہ خطِ استوا کے آس پاس خاصے بڑے رقبے پر محیط ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ خلائی سٹیشن نیوزی لینڈ اور امریکہ کے درمیان کسی بھی جگہ گر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EUROPEAN SPACE AGENCY

اجزائے ترکیبی نامعلوم

سٹیشن رفتہ رفتہ زمین کے قریب آتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے خلائی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلیئس ابوٹانیوس نے بی بی سی کو بتایا: 'جوں جوں فضا گاڑھی ہوتی جائے گی، اس کے گرنے کی رفتار بتدریج تیز تر ہوتی جائے گی۔ زمین سے ایک سو کلومیٹر کی بلندی پر یہ گرم ہونا شروع ہو جائے گا۔'

سٹیشن کا زیادہ تر حصہ جل جائے گا لیکن ڈاکٹر ابوٹانیوس کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سے حصے جلنے سے بچ جائیں گے کیوں کہ چین نے سٹیشن کے اجزائے ترکیبی نہیں بتائے۔

سٹشین زمین کے قریب پہنچ کر 26 ہزار کلومیٹر کی رفتار پکڑ سکتا ہے۔

کیا اس سے انسانوں کو خطرہ ہے؟

نہیں۔ یورپی خلائی ادارے کے ہولگر کریگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کسی کے زخمی ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ انھوں نے کہا: 'میرے تخمینے کے مطابق اتنا ہی امکان ہے جتنا کوئی شخص سال میں دو بار آسمانی بجلی کا نشانہ بنے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں