ترک صدر اردوغان اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے درمیان غزہ کے معاملے پر لفظی جنگ

اردوغان اور نتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS/ EPA

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے غزہ میں ہونے والی خونریزی پر ایک دوسرے پر زبانی حملے کیے ہیں۔

جمعے کو 16 فلسطینی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر فائر کھول دیا تھا۔

اتوار کو صدر اردوغان نے نتن یاہو کو 'دہشت گرد' قرار دیا۔

اس سے پہلے نتن یاہو نے انقرہ کی جانب سے 'اخلاق درس' مسترد کرتے ہوئے ترکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ خود بیرونِ ملک اندھادھند بمباری کر کے شہریوں کو ہلاک کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹوئٹر پر کہا: 'دنیا کی سب سے بااخلاق فوج کسی ایسے شخص سے اخلاقی درس نہیں لے گی جو سالہاسال سے شہریوں کو اندھادھند ہلاک کیے جا رہا ہے۔

'بظاہر انقرہ میں یکم اپریل ڈے اس طرح سے منایا جاتا ہے۔'

اس سے قبل انھوں نے صدر اردوغان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ کردوں کے دیہات پر بمباری کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اتوار کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہمدان ابو امشا کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

اردوغان نے جمعے کو کیے جانے والے اسرائیلی حملے کو 'غیرانسانی' قرار دیا تھا۔

اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے خطاب میں صدر اردوغان نے کہا: 'ارے نتن یاہو، تم قابض ہو۔ تم ان زمینوں پر قابض ہو۔ ساتھ ہی تم دہشت گرد بھی ہو۔'

یہ زبانی جنگ اس دوران ہو رہی ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی پر دنیا بھر میں تنقید کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے 'یوم الارض' کے موقعے پر فلسطین مہاجرین کے اسرائیل میں اپنے گھروں کو لوٹنے کے حق میں چھ ہفتے طویل مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس کے پہلے روز ہزاروں فلسطین مظاہرین پر فائرنگ میں 16 فلسطینی ہلاک جب کہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ میں 16 فلسطینی نوجوانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

احمد یوسف حماس کے سربراہ اسمعیل ہانیہ کے سابق مشیر ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کسی نے بھی سرحد پار کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اسرائیل میں کسی چیز کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل جو جواز پیش کر رہا ہے وہ جھوٹ ہے اور صرف اپنی جارحیت کو چھپانے کی غرض سے ہے۔

فلسطین کے وزیر تعلیم ڈاکٹر صابری صادیم کہتے ہیں ’آپ لوگ ان فوٹوز اور ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں جو نشر کی گئیں، آپکو معلوم ہو گا کہ وہ لوگ پرامن مارچ کر رہے تھے۔انھوں نے کسی بندوق کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ان کی طرف سے کسی قسم کی جارحیت نظر آتی ہے۔ جو چیز نظر آتی ہے وہ صرف جھنڈے ہیں جو وہ مارچ کے دوران لہرا رہے تھے۔‘

دوسری جانب اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت کئی بین الاقوامی رہنماؤں کی جانب سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں