ہم بچوں کے کھیل نہیں کھیلتے لیکن ابھی تک یہ ممالک یہی کھیل کھیل رہے ہیں: روس

لاوروو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دیے جانے کے بعد کی پیش رفت کے حوالے سے برطانیہ اور مغربی اتحادیوں پر ’بچوں کا کھیل‘ کھیلنے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے برطانیہ اور برطانیہ کے مغربی اتحادیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ممالک ’مناسب رویے کو نظر انداز‘ کرتے ہوئے ’سفید جھوٹ اور غلط معلومات‘ پھیلا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے شہر سیلیسبری میں روسی کے سابق ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دیا گیا تھا۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اس واقعے کا ذمہ وار روس کو ٹھہرایا ہے۔

روس نے مزید 50 برطانوی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

روس کا جوابی اقدام، 60 امریکی سفارتکار ملک بدر

برطانیہ سمیت 29 ممالک نے روس کے سفارکاروں کو ملک بدر کیا ہے۔

تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے ان الزامات کی دوبارہ تردید کی۔

کولڈ وار کے مقابلے میں روس اور مغربی دنیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کتنی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے کے سوال پر لاوروف نے کہا ’کولڈ وار میں کچھ قوانین تھے اور قابل قبول رویہ ہوا کرتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA/ Yulia Skripal/Facebook

’میرے خیال میں مغربی دنیا، میرے خیال میں پہلے برطانیہ اور امریکہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے چند ممالک نے تمام قابل قبول رویوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہم بچوں کے کھیل نہیں کھیلتے لیکن ابھی تک یہ ممالک یہی کھیل کھیل رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کو کم کرنا مغربی ممالک پر ہے۔

’جب ہم بچے ہوتے تھے تو تو کہا کرتے تھے کہ جس نے شروع کیا ہے وہی ختم کرے گا۔‘

پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے عندیہ دیا کہ زہر دینا برطانیہ کے فائدے میں ہو سکتا ہے کیونکہ بریگزٹ کی وجہ سہ برطانیہ کافی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

’کچھ دیگر وضاحتیں بھی ہیں۔ ماہرین ان وضاحتوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایسا کرنا برطانوی سپیشل فورسز کے لیے سود مند ہے کیونکہ وہ ایسی حرکتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘

لاوروف نے سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کے حوالے سے مزید کہا کہ اس بارے میں کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں