مویشی چرانے کے لیے مہنگی گاڑی کا استعمال کیوں؟

مویشی تصویر کے کاپی رائٹ Bukhara police

ازبکستان کی پولیس نے مویشی چوری کرنے والے دو افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے جو ایک مہنگی برانڈ کی گاڑی میں بیل کو چوری کر کے لے جا رہے تھے۔

بخارا ریجن میں حکام کے حوالے سے از نیوز نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ وہاں کے مقامی افراد اپنی گائے اور بھیڑ کے گم ہو جانے کے بعد ان کی تلاش کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشکوک نظر آنے سے بچنے کے لیے وہ چوری شدہ بھیڑوں اور دیگر مویشیوں حتیٰ کہ بیل کو بھی شیورلیٹ مالیبو میں لے جاتے تھے جو ان میں سے ایک شخص کی ملکیت تھی۔

امریکی برانڈ کی یہ گاڑی ازبکستان میں بہت مشہور ہے۔

ازبکستان میں جی ایم موٹرز کی جانب سے بنائی جانے والی یہ سب سے مہنگی گاڑی ہے اور اس کی قیمت 30 ہزار ڈالر ہے جو یہاں ایک شخص کے ماہانہ کمائی سے 100 گنا زیادہ ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امینو نامی شخصں بخارا صوبے کا ہی رہائشی ہے اور وہ اپنے کزنز اور اپنی بیوی مارڈن کی مدد سے جانوروں کو چوری کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ شخص پہلے بھی کئی مرتبہ سزا کاٹ چکا ہے۔ اس کے فارم ہاؤس کی تلاشی کے دوران وہاں سے بھڑیں اور بکریاں بھی ملیں۔

مویشیوں کو اس مہنگی گاڑی میں چرا کر لے جانے کی خبر نے سوشل میڈیا پر کافی توجہ حاصل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BUKHARA POLICE
Image caption جب ولیس نے چور کا پتہ لگا لیا

ایک فیس بک صارف نے لکھا ’کم ازکم گائے دیکھنے میں خوش لگ رہی ہے۔‘ جبکہ ایک دوسرے صارف کا کہنا تھا کہ اسے ایک مالیبو کار میں لے کر جایا گیا ایک دلہن کی طرح۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں