شامی فوج کے دوما پر فضائی حملے، کم از کم 40 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوما کا علاقہ پانچ سال سے شامی فوج کے محاصرے میں ہے

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے دوما میں باغیوں کے زیر اختیار حصے پر فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 40 تک جا پہنچی ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی شامی تنظیم کے مطابق قصبے پر کیے جانے والے حملوں میں مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

یہ بمباری جمعے کو اس وقت کی گئی جب باغیوں اور مذاکرات کاروں میں بات چیت ناکام ہو گئی۔

اسی بارے میں

شام: شدید زخمیوں کو دوما سے لے جانے کا معاہدہ

شام میں جنگ زد علاقوں سے 60 ہزار افراد کا انخلا: اقوام متحدہ

بمباری کا نشانہ مشرقی غوطہ

باغیوں نے ملک کے شمالی حصوں کی جانب جانے کے لیے محفوظ راستہ دے جانے کے بدلے دوما کا علاقے خالی کرنے کی پیشکش رد کر دی تھی۔

حکومت کا موقف ہے کہ باغی دمشق کے شہری علاقوں پر شیلنگ کررہے ہیں جس میں اب تک کم از کم چار شہری مارے گئے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے صنعا نیوز نے فوجی ذرائع کے حوالے جیشِ اسلام نامی گروہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے سرکاری ادارہ حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور ان قیدیوں کو بھی رہا کرنے سے انکار کیا جو ان کے پاس ہیں۔

تاہم جیش اسلام کے سیاسی اہلکار کا کہنا تھا کے وہ ایسا درورازہ بند نہیں کرنا چاہتے جو شہریوں کو خون ریزی سے بچائے اور معاملے کا پر امن نکالے۔‘

رواں برس فروری کے وسط سے مشرقی غوطہ کے خلاف حکومتی کارروائی کے آغاز سے اب تک 1600 افراد مارے جا چکے ہیں۔ غوطہ دارالحکومت دمشق کے قریب باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے۔

حالیہ دنوں میں ہزاروں افراد نے دوما کے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں