امریکہ: امیگریشن ججوں کو درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption تارکین وطن بچے صدر ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی سے نالاں ہیں۔

امریکہ کا محکمۂ انصاف امیگریشن کے معاملات کا فیصلہ کرنے والے ججوں پر دباؤ بڑھانے جا رہا ہے کہ وہ پرانے کیسز کا فیصلہ جلد از جلد کریں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق محکمۂ انصاف متعلقہ ججوں سے کہے گا کہ ’اطمینان بخش‘ کارکردگی دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک سال میں امریکہ میں سکونت کی کم از کم سات سو درخواستوں پر فیصلہ کریں۔

لیکن ناقدین کو خدشہ ہے کہ اگر ججوں پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو امیگریشن عدالتوں میں معمول کی ضروری کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً چھ لاکھ افراد امریکہ میں مستقل سکونت کی درخواستوں پر فیصلوں کے انتظار میں ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے امریکہ کے اٹارنی جنرل جیف سیشن ایک نئی پالیسی متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد امیگریشن ججوں کے پاس پڑی ہوئی درخواستوں پر فیصلے کے عمل کو تیز کروانا ہے تاکہ ’بیک لاگ‘ کو ختم کیا جا سکے۔

دوسری جانب گذشتہ اتوار کو صدر ٹرمپ نے کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ امیگریشن کے خلاف نئے ’سخت‘ قوانین منظور کروائیں۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس مطالبے کو دُھرایا کہ ان سیکنڑوں ہزاروں تارکین وطن کی امریکہ میں سکونت کو قانونی نہ قرار دیا جائے جنھیں ضروری کاغذات کے بغیر اس وقت امریکہ لایا گیا تھا جب وہ نو عمر تھے۔

محکمۂ انصاف امیگریشن ججوں کو جو ہداایات دینے جا رہا ہے ان میں کہا گیا ہے کہ ہر سال میں امیگریشن درخواستوں کی ایک خاص تعداد پر فیصلے کی پابندی سے ان درخواستوں کی ’بروقت اور مؤثر انداز‘ میں سماعت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

محکمۂ انصاف کے ترجمان ڈیون او مالے کا کہنا تھا کہ اوسطاً ایک جج سال میں 678 درخوستوں کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن کچھ جج ایسے ہیں جو ایک ہزار سے بھی زیادہ کیسز کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

لیکن واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے امیگریشن ججوں کی تنظیم ’نیشنل ایسوسی ایشن آف امیگریشن ججز‘ کا کہنا تھا کہ محکمۂ انصاف کے سات سو کیسز سالانہ کی حد مقرر کرنے سے فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تنظیم کی صدر ایشلے تبدر نے کہا کہ ’اگر بیرونی عوامل کسی جج کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں تو عدالت کی دیانتداری اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہے۔‘

امیگریشن کے وکیلوں کی تنظیم ’امیرکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن‘ نے بھی کہا ہے کہ ججوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے کہ وہ عدالتوں میں پڑی ہوئی درخواستوں پر جلد از جلد فیصلہ کریں۔

تنظیم کی سینئر رکن لارا لِنچ کے بقول ’ہمیں بہت خدشہ ہے کہ نئے کوٹہ سسٹم سے امیگریشن درخواستوں کو تیزی سے بھگتایا جائے گا اور ضروری قانونی تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔‘

اسی بارے میں