بحرِ مردار کو مردار کیوں کہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدیوں پہلے وجود میں آنے والے بحرِ مردار میں نمک اور معدنیات کی مقدار بہت زیادہ ہے

کیا آپ کو پتہ ہے کہ سطح زمین پر دنیا کا سب سے نچلا مقام کون سا ہے۔ لفظ سالٹ (نمک) کہاں سے آیا۔ یا بحرِ مردار کو بحرِ مدار کیوں کہا جاتا ہے۔

ان سب سوالوں کے جواب اس سرزمین میں پنہاں ہیں جو دنیا کے تین بڑے مذاہب کا منبع سمجھی جاتی ہے۔ یہ ارضِ مقدس بھی ہے اور ارضِ تنازع بھی۔ یہاں صدیوں کی تاریخ عیاں بھی ہے اور پنہاں بھی۔ یعنی اسے اب بھی طلسمِ ہوش ربا کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ مثال کے طور پر ذرا بحرِ مردار کو ہی لیجیے۔

بحرِ مردار کو مردار کیوں کہا جاتا ہے؟

یہ اردن، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان واقع ایک سمندر ہے اور یہ ایسا مقام ہے کہ جہاں بارش اور آس پاس سے زمین کے اندر اور اوپر سے پانی نیچے کی طرف آتا ہے۔ یہاں پانی آتا تو ہے لیکن یہاں سے کہیں جاتا نہیں۔ مطلب یہ کہ یہ چاروں طرف سے ایک طرح سے بند ہے اور اس پانی کا مقدر صرف بخارات بن کر اڑنا ہی ہے۔ صدیوں سے پانی کے یوں اوپر اڑنے کی وجہ سے نیچے صرف معدنیات اور نمکیاتی مادہ ہی رہ گیا ہے جو صدیوں کے اس عمل سے اتنا نمکین ہو چکا ہے کہ اس میں جاندار چیزوں جیسے کہ مچھلیاں یا پودوں کا رہنا ناممکن ہے۔ ہاں کئی ایسے بیکٹیریا ضرور ہیں جو ہر طرح کا ماحول برداشت کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بحرِ مردار کہتے ہیں یعنی مری ہوئی چیزوں کا سمندر یا وہ سمندر جہاں کوئی چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بحرِ مردار اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ تصویر میں پیچھے اردن کی پہاڑیاں نظر آ رہی ہیں

یہ سطح سمندر سے 430 اعشاریہ پانچ میٹر (1412 فٹ) نیچے ہے اور پانی میں نمک کی کثافت کے حوالے سے دنیا کا سب سے گہرا مقام بھی ہے یعنی 304 میٹر (997 فٹ) گہرا۔ یہاں پانی میں نمکینیت یا شوریت 34 اعشاریہ دو فیصد ہے اور یہی چیز اسے دنیا میں نمکین پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ بناتی ہے۔

نمک کا سمندر

بحرِ مردار کو تاریخ میں کئی ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے اور اس ’بند سمندر‘ کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔ رومن دور میں اسے سالٹ سی، یعنی نمک کا سمندر بھی کہا جاتا تھا۔ سالٹ لاطینی زبان کا لفظ ’سال‘ ہے جو کہ نمک کا کیمیائی نام بھی ہے۔

بحرِ مردار یا نمک کے سمندر کی رومیوں کی نظر میں اتنی زیادہ اہمیت تھی کہ انھوں نے اس سمندر پر پہرے لگا رکھے تھے کہ کوئی یہاں سے نمک نہ لے جائے۔ اور وہ کام کرنے والوں کو اجرت بھی نمک کی صورت میں دیا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انگریزی کا لفظ 'سیلری' یعنی تنخواہ بھی ’سال‘ سے ہی نکلا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بحرِ مردار ایک اہم سیاحتی مقام بن گیا ہے اور لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں

صحت افزا مقام

بحرِ مردار میں اگرچے جاندار چیزیں نہیں رہ پاتیں لیکن دنیا بھر سے لوگ یہاں ضرور آتے ہیں اور یہ اس خطے کے بہت سے دوسرے مقامات کی طرح ایک بہت بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ کیونکہ یہاں پانی میں نمک اور معدنیات کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اس لیے اس پانی سے کئی بیماریوں کا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے پانی میں نہاتے ہیں، اس کی مٹی جسم پر مل کر ساحل پر لیٹتے ہیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جسموں کو صحت اور تازگی بخشتی ہے۔

اسی بارے میں