ٹرمپ کا میکسیکو کی سرحد پر فوج بھیجنے کا عزم

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع میکسیکو کی سرحد کی حفاظت کے لیے وہ امریکی فوج تعینات کریں گے۔

منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم اپنے کام عسکری انداز میں کریں گے اور یہ ایک بڑا قدم ہوگا۔‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے وسطی امریکی ملک ہانڈوراس کو اس وقت امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی جب وہاں سے پناہ گزینوں کے امریکہ کی جانب روانہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے دونوں پیش رو جارج بش اور براک اوباما نے امریکی سرحدوں کے لیے نیشنل گارڈ کا استعمال کیا تھا۔ صدر جارج بش نے ہزاروں فوجیوں کو سرحد پر جب تعینات کیا تو اسے آپریشن جمپ سٹارٹ کا نام دیا گیا تھا۔

منگل کو بالٹک ممالک کے رہنمائوں کے ساتھ ایک ورکنگ لنچ کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر میکسیکو سے پناہ گزینوں کی آمد نہ رکی تو شمالی امریکہ میں فری ٹریڈ معاہدے (نیفٹا) بھی خطرے میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یاد رہے کہ گذشتہ سال کے آخری چند ماہ میں امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے والے ایک پروگرام کو ختم کر دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کانگریس کو چھ ماہ کی مدت دیں گے کہ اس پروگرام کا متبادل تیار کیا جائے۔ اس فیصلے کو ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس پروگرام کے لیے امریکی حکام میں بہت حمایت ہے اسی لیے اس کے متبادل کو تیار کرنا اہم ہے۔

ڈاکا نامی اس پروگرام کو صدر اوباما نے متعارف کروایا تھا اور اس پروگرام کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو ملک بدری سے بچایا جاتا ہے اور انھوں پڑھنے اور کام کرنے کے پرمٹ دیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں