امریکہ: ’خاتون حملہ آور یو ٹیوب سے نالاں تھیں‘

نسیم تصویر کے کاپی رائٹ NASIM AGHDAM
Image caption نسیم جن کی یو ٹیوب پر ذاتی ویب سائٹ بھی ہے نے ادارے کے خلاف بات کی تھی

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا میں یوٹیوب کے صدر دفتر میں گولی چلانے والی مشتبہ حملہ آور نسیم اغدام کے بارے میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہ یو ٹیوب سے اپنی کچھ ویڈیوز ڈیلیٹ ہونے کی وجہ سے یوٹیوب سے نالاں تھی۔

پولیس نے 39 سالہ نسیم اغدام کی شناخت کے بعد کہا کہ وہ واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نسیم یوٹیوب پر برہم تھیں اور ان کا خیال تھا کہ ادارہ ان کی بعض ویڈیوز کے معاملے میں دھوکہ دے رہا ہے اور وہ جو پیسہ کما رہی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ کماسکتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ بھر میں اسلحے کے خلاف بڑے مظاہرے

پولیس کے مطابق تاحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ 39 سالہ حملہ آور خاتون گولیوں کا نشانہ بننے والے افراد کو جانتی تھی۔

فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد میں سے 36 سالہ شخص کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایک 32 سالہ خاتون اور 27 سالہ خاتون بھی زخمی ہیں۔

تینوں زخمیوں کو زکربرگ سان فرانسسکو جنرل ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

حملہ آور کون تھیں؟

نسیم ادغام کیلیفورنیا کے علاقے سان تیاگو میں رہتی تھیں۔

پولیس نے ان کے بارے میں تھوڑی سی معلومات دی ہیں تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ وہ اپنا ایک چینل اور ویب سائٹ چلاتی تھیں اور یو ٹیوب پر مختلف موضوعات پر ویڈیوز پوسٹ کرتی تھیں۔

یوٹیوب نے اس وقعے کے بعد نسیم کا اکاؤنٹ بند کر دیا ہے اس کے علاوہ ان کے انسٹاگرام اور فس بک پر موجود اکاؤنٹس بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔

اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر انھوں نے یو ٹیوب پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کی ویڈیوز کو صارفین تک پہنچنے کی راہ کی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ یہاں مساوی مواقع نہیں اگر یو ٹیوب چاہے گی کہ آپ کا چینل بڑھے تو وہ ترقی کرے گا۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جس شخص کو گولی لگی وہ ان کا دوست تھا لیکن بعد میں پولیس نے کہا کہ اس کے واضح ثبوت نہیں کہ نسیم مقتولین کو جانتی تھیں۔

ماضی میں اس طرح کے واقعات مردوں کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 سے 2016 کے درمیان سرعام قتل کیے جانے والے 160 واقعات میں سے فقط چھ خواتین کی جانب سے کیے گئے۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

یہ واقعہ دن کے وقت پیش آیا۔ مشتبہ حملہ آور نے سان برنو میں موجود دفتر میں ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی اور ہینڈ گن سے فائر کیا۔

ٹی وی پر دکھائی دینے والی فوٹیج میں دفتر کے ملازمین کو ہاتھ اٹھا کر باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا ہے اور ان کے اہلکار جائے وقوع پر پونے بارہ بجکر 48 منٹ پر کے قریب پہنچے تھے اور جائے وقوع پر پہنچنے والے اہلکاروں کو افراتفری نظر آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے دفاتر کے سامنے انھیں ایک شخص زخمی حالت میں ملا اور چند ہی منٹوں کے بعد افسران کو ایک خاتون ملی جس نے بظاہر خود کو گولی مار لی تھی۔

دیگر دو متاثرہ خواتین ایک قریبی کاروباری مرکز میں ملیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے پاس ایک پستول تھا۔

ایک قریبی فاسٹ فوڈ ریستوراں کے ایک ملازم نے مقامی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو بتایا کہ اس نے ایک زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد دی تھی اور ایک بنجی کورڈ کو ان کی ٹانگ پر باندھ کر خون کو بہنے سے روکا۔

یوٹیوب کے صدر دفتر میں 1700 لوگ کام کرتے ہیں اور کمپنی کی ملکیت گوگل کے پاس ہے۔

یوٹیوب کے بہت سے ملازموں نے حملے کے بارے میں ٹویٹ کیا۔ پروڈکٹ مینیجر ٹاڈ شرمین نے لکھا کہ گولیاں چلنے کے ساتھ ہی عمارت میں افراتفری پھیل گئی۔

انھوں نے لکھا: 'ہم لوگ ایک میٹنگ میں تھے کہ لوگوں کے دوڑنے کی آواز آئی اور فرش پر دھم دھم کی آواز تھی۔ پہلے تو ہم یہ سمجھے کہ یہ کوئی زلزلہ ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں