سعودی عرب میں 35 سالہ پابندی کے بعد پہلا سنیما

سعودی عرب میں اے ایم سی کا پہلا سینما گھر دارالحکومت ریاض میں شاہ عبد اللہ فائنیشل ڈسٹرکٹ میں کھولا جائے گا۔ تصویر کے کاپی رائٹ Business Wire/KAFD
Image caption سعودی عرب میں اے ایم سی کا پہلا سینما گھر دارالحکومت ریاض میں شاہ عبد اللہ فائنیشل ڈسٹرکٹ میں کھولا جائے گا۔

دنیا میں سنیما گھروں کی سب سے بڑی کمپنی اے ایم سی نے اعلان کیا ہے کہ اس ماہ کی 18 تاریخ کو وہ سعودی عرب میں اپنا پہلا سنیما گھر کھولے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ 35 سالوں سے سنیما گھروں پر پابندی تھی اور مملکت میں کئی دہائیوں میں کھلنے والا یہ پہلا سنیما گھر ہوگا۔

اے ایم سی کے ترجمان رائن نونان نے نامہ نگار شجاع ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے سعودی حکومت کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ایک ذیلی کمپنی اور اے ایم سی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور سعودی عرب میں اے ایم سی کا پہلا سنیما گھر دارالحکومت ریاض میں کھولا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

سعودی عرب میں’ ہزاروں خواتین ڈرائیور بھرتی ہو سکیں گی‘

دہلی سے تل ابیب براستہ سعودی فضائی حدود

اس سوال پر کہ کیا سینما گھروں میں خواتین کو جانے کی اجازت ہوگی یا ان کے علیحدہ سیٹوں کا تعین کیا جائے گا، ترجمان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں۔

اسی حوالے سے سعودی وزارتِ اطلاعات اور ثقافت نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ملک کے پندرہ شہروں میں 30 سے 40 سنیما گھر کھولے جائیں گے جبکہ سنہ 2030 تک ان کی تعداد 100 تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AMC
Image caption اے ایم سی دنیا بھر میں تقریباً 1000 سینما گھر چلاتی ہے۔

اے ایم سی دنیا بھر میں تقریباً 1000 سنیما گھر چلاتی ہے۔

سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

گذشتہ برس سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد تھی۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

اسی بارے میں