جرمنی: گاڑی کو راہگیروں پر چڑھا دیا،دو افراد ہلاک

جرمنی کار حملہ تصویر کے کاپی رائٹ PAUL FEGNANN

جرمنی کے شہر مونسٹر میں ایک وین ڈرائیور نے مقبول ریستورانوں کے باہر بیٹھے لوگوں پر گاڑی راہگیروں پر چڑھا دی جس سے کم از کم دو افراد کچل کر ہاک ہو گئے، جب کہ ڈرائیور نے خودکشی کر لی۔

پولیس نے ڈرائیور کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم کہا ہے کہ وہ جرمن شہری تھا۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ یہ حملہ کسی اسلامی شدت پسند نے کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ ہربرٹ روئل نے کہا کہ اس واقعے میں دو افراد کچل کر ہلاک ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے اس سے قبل تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

وفاقی حکومت کے نائب ترجمان نے واقعے میں متاثرہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک سلیٹی رنگ کی ووکس ویگن گاڑی ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق تین بجے اوپن ریستوران کے علاقے میں آئی۔

عینی شاہدوں کے مطابق گاڑی تیز رفتاری سے لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ تصاویر میں اس مقبول سیاحتی مقام پر کرسیاں اور میزیں بکھری ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خصوصی پولیس نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا

ایک کیفے کی ملازمہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس نے ٹکر کی آواز سنی اور دیکھا کہ لوگ چیخ رہے ہیں۔

حملے کے محرکات کا علم نہیں ہو سکا، تاہم جرمن میڈیا نے کہا ہے کہ ملزم دماغی بیماری میں مبتلا تھا۔

شہر میں ایک اور جگہ پولیس نے ایک اپارٹمنٹ کی تلاشی لی ہے۔

ایک عینی شاہد ڈینیل کولن برگ نے بی بی سی کو بتایا: 'میرے خیال یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا کیوں کہ اس علاقے میں گاڑیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔'