شام کے فوجی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ: سرکاری میڈیا

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق شام میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر ممکنہ امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم امریکہ نے شام کے خلاف کسی بھی قسم کے فضائی حملے کی تردید کی ہے۔

شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق شام میں ایک فوجی ہوائی اڈے کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام کا فضائی دفاعی نظام ایکٹیویٹ ہو گیا تھا۔

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

شام میں خونریزی کا فوری خاتمہ کریں: پوپ فرانسس

شامی ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ پیر کو صبح کے وقت حمس شہر میں ٹی 4 ایئر بیس کے قریب دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق ’تیفور ایئر پورٹ کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ان اطلاعات کی آزاد ذارئع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شامی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی مدد سے فوجی اڈے کی جانے مارے جانے والے آٹھ میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ٹی 4 ایئر بیس کے بارے میں دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہاں بڑی تعداد میں روسی فوجیں تعینات ہیں اور یہیں سے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں پر بمباری کرنے کے لیے مسلسل لڑاکا طیارے پرواز بھرتے ہیں۔

یہ خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شام کے شہر دوما میں مبینہ طور پر زہریلی گیس کے حملے میں کم از کم 70 افراد کی ہلاکت پر عالمی برادری کو تشویش لاحق ہے۔

مبینہ طور پر زہریلی گیس کے حملے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'اس حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر نے ٹویٹ میں شام کے صدر بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں روس اور ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ممکنہ طور پر اس معاملے پر بحث کرے گی۔ اس کے 15 میں سے نو ارکان نے اس معاملے پر فوری اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔

یورپی یونین نے بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری ردِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

شام اور روس دونوں کیمیائی حملے کا انکار کرتے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے بھی اس حملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہے۔

وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی کارکنوں کی ایک تنظیم نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں متعدد مردوں، عورتوں اور بچوں کی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے کئی کے منھ جھاگ سے بھرے ہوئے ہیں۔

تاہم ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں