ازبکستان کے ٹی وی پر نوجوان عاشقوں کے بوس و کنار کے مناظر دکھانے پر تنقید

خفیہ کیمرہ پروگرام تصویر کے کاپی رائٹ MY5
Image caption متنازع پروگرام کے میزبان نے پارک میں جوڑوں سے ’ غیر مناسب‘ سوالات پوچھے

ازبکستان میں ایک ٹی وی چینل کو نوجوان جوڑوں کے عوامی مقامات پر اظہار محبت کے مناظر کو سامنے لانے سے متعلق پروگرام پر تنقید کا سامنا ہے۔

اس پروگرام پر ٹی وی چینل پر نہ صرف ناظرین بلکہ حکومت بھی غصے کا اظہار کر رہی ہے۔

’خفیہ کیمرہ‘ نامی پروگرام کو ایم وائی فائیو انٹرٹیمنٹ چینل پر نشر کیا گیا جس میں کئی عاشقوں کو دارالحکومت تاشقند کے سینٹرل پارک میں ایک دوسرے سے بوس و کنار اور بغل گیر ہوتے دکھایا گیا اور اس دوران جوڑوں کے چہروں کو غیر واضع یا دھندلا کر دیا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ازبکستان میں چھوٹی شادیاں، کم مہمان مدعو کرنے کا حکم

خواتین کیا پہنیں کیا نہیں، کتاب بتائے گی

شو کے میزبان نے متعدد عاشقوں سے انٹرویو کرنے کی کوشش کی اور اس دوران غیر مناسب سوالات پوچھے کہ’ کیا یہ کرنا ٹھیک کام ہے۔‘

گذشتہ ہفتے نشر کیے جانے والے پروگرام میں چینل کو ازبک وزارتِ انصاف کی جانب سے متنبہ کیا گیا۔ اس وارننگ میں کہا گیا کہ پروگرام حقوق انسانی اور نجی زندگی کے بنیادی قوانین کے متصادم ہے۔

فرگانا نیوز ایجنسی کے مطابق چینل کو جاری کیے گئے سرکاری نوٹس میں اس پروگرام کے پروڈیوسرز کو غیر پیشہ ور کہا گیا ہے۔

ازبکستان میں مسلمان اکثریت میں ہیں جہاں کھلے عام پیار کا اظہار کرنا غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک سرکاری اہلکار نے فرگانا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ’ ہم ایک سیکولر اور جمہوری ریاست تعمیر کر رہے ہیں اور کھلے عام بوس و کنار کرنا غیر قانونی نہیں ہے۔‘

کیا یہ غیر اسلامی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ MY5

فیس بک پر اس پروگرم کا ایک کلپ شیئر کیا گیا ہے جس پر ناظرین کی زیادہ تر تعداد نے منفی رائے کا اظہار کیا۔

ایک شخص نے لکھا کہ’ ان کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کریں۔‘

ایک اور شخص نے کہا کہ’ وزارتِ انصاف نے شو اور اس کے ان پڑھ موجد کے خلاف ٹھیک اقدامات کیے۔‘

دیگر صارفین نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ ازبکستان میں بے شمار مسائل ہیں اور چینل نے پارک میں لوگوں کی نجی زندگیوں کو دکھانے کا انتخاب کیا۔ ’ایم وائی فائیو دکھائے کہ کس طرح اساتذہ اور طبی کارکنوں کو گلیوں کو صاف کرنے پر لگایا جا رہا ہے۔‘

تاہم متعدد افراد نے چینل کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ انصاف کا اختلاف کرنے کا مطلب سرکاری طور پر غیر شادی شدہ نوجوان عاشقوں کی توثیق کرنا ہے کہ وہ غیر اسلامی طریقے سے اس وقت تک ایسا رویہ اپنا سکتے ہیں جب تک کسی طور پر قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔

فیس بک پر ایک صارف نے لکھا کہ’اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ ہماری جوان بیٹیاں جوان مردوں کے ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوں۔ کیا یہ اسلامی ہے؟‘

ایک اور شخص نے سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’اب انھیں گلیوں میں سیکس کرنے دیں اور آپ پاس کھڑے ہو کر ان کی تعریف کریں،اگر اب ہم نے اقدامات نہ کیے تو کل کو یہ چیزیں خراب ہو جائیں گی۔‘

متنازع پروگرام کے میزبان بدرالدین حسنی دیوؤف نے مقامی ریڈیو ازودیق کو بتایا کہ’وہ نوجوان جوڑوں کے بوس و کنار اور بغل گیر ہونے کے مناظر کو فلماتے رہیں اور ان کو ہر ہفتے دوسروں کو دکھاتے رہیں گے جب تک بدکرداری کے خلاف اقدامات اپنا اثر دکھانا شروع نہیں کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں