غزہ میں خونریزی کے ذمہ داروں پر مقدمہ ہو سکتا ہے: انٹرنیشنل کرمنل کورٹ

غزہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقومی عدالت) کی چیف پراسیکیوٹر نے غزہ میں جاری خونریزی کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان مظالم کے ذمہ داراں پر مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی خبررساں اداروں کے مطابق جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) کی چیف پراسیکیوٹر فتو بینسودا نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات پر وہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ادارے نے اس بارے میں ابتدائی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں

فلسطینی صحافی کی موت پر اسرائیل کا جانچ کا فیصلہ

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مزید دس فلسطینی ہلاک

’معاف کیجیے کمانڈر، میں گولی نہیں چلا سکتا‘

غزہ میں گذشتہ دو ہفتوں میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ میں 29 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد فتو بینسودا نے ایک بیان میں کہا کہ 'ان کا ادارہ فلسطینی میں ہونے والے نئے مبینہ جرائم کی تحقیقات کر سکتا ہے۔'

آئی سی سی کے پراسیکیوٹر نے فلسطینی کے ایک رکن ملک بننے کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول بیت المقدس میں جنوری سنہ 2015 میں ہونے والے جرائم کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسرائیل آئی سی سی کے رکن ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے لیکن اگر کوئی اسرائیلی شہری کسی جنگی جرم یا انسانیت کے خلاف کسی جرم کا کسی غیر ملکی سرزمین پر مرتکب ہوتا ہے تو وہ آئی سی سی کے دائرہِ اختیار میں آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بینسودا نے کہا کہ وہ فریقین کی جانب سے غیر قانونی طور پر طاقت کے استعمال پر اکسانے کے واقعات کو بھی ریکارڈ کریں گی

بیان میں کہا گیا ’کہ جس طرح کی صورت حال غزہ میں پائی جاتی ہے اس میں شہریوں کے خلاف تشدد جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے جس طرح شہریوں کی موجودگی کی آڑ میں جنگی کارروائیاں۔'

بینسودا نے کہا کہ وہ فریقین کی جانب سے غیر قانونی طور پر طاقت کے استعمال پر اکسانے کے واقعات کو بھی ریکارڈ کریں گی۔

آئی سی سی میں کوئی بھی مقدمہ لائے جانے کا پہلا مرحلہ اس واقع یا جرم کا ابتدائی جائزہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا

فلسطینی مسئلے کا دو ریاستی حل ہے کیا؟

اس کے بعد پراسیکیوٹر تمام معلومات اکھٹی کر کے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا کسی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے یا نہیں جس کے بعد اس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی جاتی ہیں۔

آئی سی سی کا دائرہ اختیار ان واقعات یا جرائم میں ہوتا ہے جس میں کسی ملک کی حکومت جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف مقدمات چلانے سے یا تو قاصر ہو یا اس پر تیار نہ ہو۔

اسی بارے میں