شام میں ’کیمیائی حملے‘: امریکہ کا ’موثر‘ جوابی کارروائی کا عزم

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے ردعمل میں ’پرزور‘ جوابی کارروائی کی عہد کیا ہے جبکہ مغربی ممالک اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ کیا قدم اٹھانا چاہیے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’عسکری سطح پر ہمارے پاس بہت سے راستے ہیں‘ اور جوابی کارروائی کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سنیچر کو دوما میں ہونے والے واقعے کے ذمہ دار کے بارے میں امریکہ کو ’اچھی وضاحت‘ مل رہی ہے۔

طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تاہم ہلاکتوں کی صحیح تعداد کی تصدیق ناممکن ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے ساتھ اس واقعے کے بارے میں بات چیت بھی کی اور دونوں رہنماؤں نے ’ٹھوس ردعمل‘ ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر ’کیمیائی حملے‘ کے حوالے سے روس اور امریکہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ شام میں ’کیمائی حملے‘ کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا، دوما کے واقعہ پر امریکی کی ’فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘ جبکہ امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ’روس کے ہاتھوں پر شامی بچوں کا خون ہے‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر شام میں ہونے ’کیمیائی حملے‘ کی کمزور الفاظ میں مذمت کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

شام کے کیمیائی حملے پر امریکی کارروائی کا فیصلہ متوقع

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

شام کے فوجی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ: سرکاری میڈیا

پوپ فرانسس کی اپیل: شام میں خونریزی کا فوری خاتمہ کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر ’کیمیائی حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ شام سے متعلق ’بڑے فیصلوں‘ کے بارے میں آئندہ دو دن میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے روس کے صدر بشار الاسد کو ’عفریت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’اگر سلامتی کونسل نے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ کی تو امریکہ اس کا جواب دے گا۔‘

دوما پر سنیچر کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں اندازوں کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مزمت کی تھی جبکہ شامی حکومت اور روس نے اس کی تردید کی تھی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ماہرین اور امدادی کارکنوں نے باغیوں کے علاقے سے نکل جانے کے بعد وہاں کا دورہ کیا ہے اور انھیں ’کیمیائی حملے‘ کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کو دوما پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر نے ایک بیان میں شام میں ’کیمیائی حملے‘ کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اس کے ذمہ داراں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اسی بارے میں