روس تیار رہے، نئے اور سمارٹ میزائل آ رہے ہیں: ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے: ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ ممکنہ اقدام شام میں مبینہ کیمائی حملے کے جواب میں کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 'روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔'

صدر ٹرمپ نے روس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اُس کی مذمت کی کہ وہ شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کر رہا ہے۔

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔

انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کسی قسم کی 'غیر قانونی فوجی کارروائی' کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

تاہم مغربی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ حملوں میں شامی حکومت کی کیمیائی تنصیبات کو ہدف بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کا شام میں ’موثر‘ جوابی کارروائی کا عزم

شام کے کیمیائی حملے پر امریکی کارروائی کا فیصلہ متوقع

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

روس کی جانب سے یہ وارننگ اس وقت آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مبینہ کیمیائی حملے کے خلاف نئی تحقیقات کی تجویز منظور نہ ہو سکی۔

روس نے امریکہ کا تحریر کردہ مسودۂ قرارداد ویٹو کر دیا جب کہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری جانب روس کی جانب سے جوابی قرارداد بھی مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر پائی۔

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس کی قرارداد فوجی کارروائی کا بہانہ ہے۔

اس کے جواب میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے قرارداد پر ووٹنگ کو 'مسخرہ پن' قرار دیا۔ انھوں نے کہا: 'روس نے کونسل کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے۔'

’مداخلت کی کوشش‘

اس سے قبل روس نے شام کی جانب سے گذشتہ سنیچر کو دوما میں مبینہ ’کیمیائی حملے‘ کی تحقیقات سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد ویٹو کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی مندوب نکی ہیلی اور روسی مندوب واسیلی نیبینزیا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا

اقوام متحدہ میں روسی سفیر کا کہنا ہے ’وائٹ ہاؤس کے اشتعال انگیزوں‘ کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرار داد کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی گئی۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نے اس قرار داد کو واشنگٹن کی کم سے کم جوابی کارروائی قرار دیا۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے دوما میں میبنہ ’کیمائی حملے‘ پر ٹھوس ردِ عمل ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تینوں ممالک اس کا الزام شام کے صدر بشار الاسد پر عائد کرتے ہیں جبکہ شامی حکومت اور روس اس کی تردید کی تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے ردعمل میں 'پرزور' جوابی کارروائی کا عہد کیا تھا۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا 'عسکری سطح پر ہمارے پاس بہت سے راستے ہیں' اور جوابی کارروائی کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے ساتھ اس واقعے کے بارے میں بات چیت بھی کی اور دونوں رہنماؤں نے 'ٹھوس ردعمل' ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دوما پر سنیچر کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں اندازوں کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم طبی ذرائع کے مطابق مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر 'کیمیائی حملے' کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام سے متعلق 'بڑے فیصلوں' کے بارے میں آئندہ دو دن میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔

سنیچر کو دوما پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر نے ایک بیان میں شام میں 'کیمیائی حملے' کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اس کے ذمہ داروں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں