ہمارے پاس شواہد ہیں کہ شام نے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے: فرانس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کا کہنا ہے کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ہونے والی فوجی کارروائی میں ترجیحات پر توجہ دیں گے اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھیں گے۔

’فرانس کبھی بھی صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے نہیں دے گا یا کچھ ایسا ہونے نہیں دیں گے جس سے خطے کا استحکام خطرے میں پڑے۔ لیکن ہم اس طرح کی حکومتوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے جن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔‘

ٹرمپ کا شام میں ’موثر‘ جوابی کارروائی کا عزم

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا تاہم اس کی حمایت کرے گا۔

انھوں نے کہا ’میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی اس کارروائی کی حمایت کرے گا جو یہ واضح کرے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔

’کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شام کے شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں ممکنہ فوجی آپریشن ’بہت جلد یا کافی عرصے بعد‘ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا ’کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا۔‘

انھوں نے اسی ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ ’میری انتظامیہ میں امریکہ نے خطے سے دولت اسلامیہ کے خاتمے کے حوالے سے عمدہ کام کیا ہے۔ شکریہ امریکہ کہاں ہے‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس 'تمام آپشنز موجود ہیں' جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔

روس کی تنبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس نے شام میں جاری کشیدگی میں تمام فریقین سے کہا ہے کہ ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہو اور ملک میں امن لانے کی کوششوں پر تباہ کن اثرات پڑیں۔

یہ بات کریملن کے ترجمان نے ایسے وقت میں دیے ہیں جب واشنگٹن میں سکیورٹی چیفس صدر ٹرمپ کو شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے جواب میں تجاویز دیں گے۔

دریں اثنا شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فوجی کارروائی ’جھوٹ‘ پر مبنی ہے۔

’تمام آپشنز موجود ہیں‘

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ’تمام آپشنز موجود ہیں‘جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے

امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

روس تیار رہے، نئے اور سمارٹ میزائل آ رہے ہیں: ٹرمپ

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔

سارہ سینڈرز نے بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے پاس کئی راستے موجود ہیں اور ابھی تک ’ہم نے مخصوص کارروائیوں کے بارے میں کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا۔‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی افواج دوما کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔'

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔

انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کسی قسم کی ’غیر قانونی فوجی کارروائی‘ کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

تاہم مغربی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔

اسی بارے میں