سعودی عرب کے شہر جدہ میں خواتین کی پہلی سائیکل ریس

جدہ، سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM/@JEDDAH_WOMAN

سعودی عرب میں منعقد ہونے والی خواتین کی پہلی سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لے کر قدامت پسند قوم کے علاوہ سوشل میڈیا پر متعدد افراد کو حیران کر دیا۔

خواتین کی یہ پہلی سائیکل ریس سعودی عرب کے شہر جدہ میں منگل کو منعقد ہوئی۔

اس سائیکل ریس کا انتظام بی ایکٹیو نامی گروپ نے خـواتین سائیکل سواروں اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر کیا۔

دس کلو میٹر کے فاصلے پر محیط اس سائیکل ریس میں 47 خواتین نے حصہ لیا۔

سائیکل ریس کی منتظمہ ندیما ابو العین نے مقامی میڈیا میں نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ریس میں شریک ہونے والی خواتین کی تعداد دیکھ کر حیران ہوئی ہیں۔

سعودی عرب کی خواتین کے بارے میں مزید پڑھیے

خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘

سعودی عرب میں خواتین کے لیے گاڑیوں کا پہلا شو روم

سعودی عرب میں خواتین موٹر سائیکل اور ٹرک بھی چلا سکیں گی

انھوں نے کہا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کو سائیکل ریس میں بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت کرنے کی وجہ سے اس کی تعداد کو بڑھا کر 30 سے 47 تک کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM/@JEDDAH_WOMEN

اگرچہ ٹوئٹر پر اس سائیکل ریس کو مثبت ردعمل ملا تاہم دوسروں کے لیے یہ متنازع بھی ثابت ہوئی۔

ایک ٹویٹر صارف نے تبصرہ کیا: ’میں مذہبی عالم نہیں ہوں لیکن اس سے ایک خاتون گمراہ ہو سکتی ہے اور سائیکل چلاتے ہوئے مرد اس کے تمام پرکشش حصوں کو دیکھ سکتا ہے۔ اگر وہ سائیکل چلانا چاہتی تو وہ ضرور چلائے لیکن نہ عوام میں اور نہ لوگوں کے سامنے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’خواتین کے کھیلوں کی ضرورت ہے لیکن یہ کھیل حدود میں ہونے چاہئیں نہ کے مردوں کے سامنے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بہت سے ٹوئٹر صارفین نے سائیکل سواروں اور منتظمین کی تعریف کی۔ @ p9p نے کہا ’اس ایونٹ سے بہت مزہ آ رہا ہے۔‘

foof_foofa نے سائیکل یاس کو منعقد کروانے کے لیے انتظامیہ کی تعریف کی۔ انھوں نے ٹویٹ کی ’ہم آپ کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔‘

@ N9n9Ta نے ریس کے مخالفین کو جواب دیا: ’5، 10 یا 20 سال بعد، وہ خواتین جو سوشل میڈیا پر اس واقعے پر تنقید کر رہی ہیں اسی طرح کی ریس میں حصہ لیں گی یا ان میں شرکت کریں گی اور ان کی ریس پر خوش ہوں گی اور جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گی تو اپنے موجودہ رد عمل پر شرمندہ ہوں گی۔‘

ندیما ابو العین نے سعودی خواتین میں وسیع پیمانے پر سائیکلنگ کے شعور کو فروغ دینے کے لیے سماجی میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے سنہ 2017 میں خواتین کا سائیکل کلب قائم کیا تھا۔

ندیما ابو العین نے سائیکل ٹو ڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں ملک میں اپنی اور ساتھی سائیکل سواروں کی مشکلات کو بیان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ خواتین سائیکل سواروں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے۔

سعودی عرب کے حکام نے سنہ 2013 میں ایک فرمان کے ذریعے خواتین کو تفریحی علاقوں میں اس شرط کے ساتھ سائیکل چلانے کی اجازت دی تھی کہ وہ سائیکل چلاتے ہوئے مناسب لباس پہنیں اور ایک مرد محافظ ہر وقت ان کے ساتھ رہے۔

اسی بارے میں