دوما میں کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا: روس

سرگے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا۔

یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے پریس کانفرنس میں کہی۔

تاہم روسی وزیر خارجہ نے یہ نام نہیں لیا کہ آیا کون سی غیر ملکی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔

’میرا ماننا ہے کہ کیمیائی ہتھیار یا کلورین کا ثبوت نہیں ملے گا۔ ہمارے ماہرین کو ایک ثبوت بھی نہیں ملا۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ڈیٹا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوما کا واقعہ سٹیج کیا گیا تھا اور اس کو سٹیج کرنے میں اس ملک کی سپیشل سروسز ملوث تھیں جو روس مخالف مہم میں پیش پیش ہے۔‘

’دوما میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے‘

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے پریس کانفرنس میں امید ظاہر کی کہ لیبیا اور عراق جیسی مہم جوئی شام میں نہیں کی جائے گی۔

’خدانخواستہ شام میں عراق اور لیبیا جیسی مہم جوئی نہیں کی جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ شام کے حوالے سے آخری مہلت یا دھمکیوں سے مذاکرات میں مدد نہیں ملے گی۔

اس سے قبل روس نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نے جمعرات کو کہا کہ ’اس وقت فوری ترجیح جنگ کا خطرہ ٹالنا ہے۔‘

انھوں نے واشنگٹن پر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس وقت صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مغربی ممالک شام میں کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور روس ایسی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں شرکت کے بعد وسیلی نیبنزیا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہم کسی بھی امکان کو رد نہیں کر سکتے‘۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ’کیمیائی حملے‘ کے ردِعمل پر غور کر رہے ہیں۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابینہ کے وزیروں نے ’کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال کو روکنے کے لیے شام میں کارروائی کرنے کی ضرورت‘ پر اتفاق کیا ہے۔

ٹریزا مے نے جمعرات کی رات امریکی صدر سے بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ شام کے معاملے پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے جمعرات کو کہا تھا کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ہونے والی فوجی کارروائی میں ترجیحات پر توجہ دیں گے اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھیں گے۔

'فرانس کبھی بھی صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے نہیں دے گا یا کچھ ایسا ہونے نہیں دیں گے جس سے خطے کا استحکام خطرے میں پڑے، لیکن ہم اس طرح کی حکومتوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے جن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔'

اسی بارے میں