شامی شہر دوما میں مبینہ کیمیائی حملہ، کیوں اور کیسے؟

شام میں حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام میں امدادی کارکنوں اور طبی اہلکاروں نے کہا ہے کہ ہفتے کو دوما میں ہونے والے کیمیائی حملے میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا الزام ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے بم گرائے جو زہریلے کیمیائی مواد سے بھرے ہوئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حملہ اس نے نہیں کیا بلکہ ان کا اس طرح سے ڈراما کیا گیا ہے کہ الزام حکومت کے سر آئے۔

دوما پر حملہ کیوں ہوا؟

فروری میں صدر بشار الاسد کے حامی فوجیوں نے مشرقی غوطہ پر حملہ شروع کیا تھا جس سے اب تک مبینہ طور پر 17 سو سے زیادہ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ: لائیو کوریج

مارچ میں فوجیوں نے اس علاقے کو تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ سب سے بڑا ٹکڑا دوما کے گرد ہے جس میں 80 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک لوگ رہتے ہیں۔

شکست سر پر دیکھ کر دوسرے دو ٹکڑوں میں موجود باغی تنظیموں نے علاقہ خالی کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے جنگجو شام کے شمال کی طرف چلے گئے۔

تاہم دوما پر قابض تنظیم جیش الاسلام ابھی تک ڈٹی ہوئی ہے۔ جمعے کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد ہوائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی تنظیموں کے مطابق ہفتے کو دوما پر زبردست فضائی حملے ہوئے

حملے کے دن کیا ہوا؟

ہفتے کو بمباری جاری رہی جس میں مبینہ کیمیائی حملے سے پہلے درجنوں افراد روایتی ہتھیاروں کا نشانہ بن کر ہلاک یا زخمی ہوئے۔ شام میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی دستاویزات اکٹھے کرنے والی تنظیم وی ڈی سی نے اطلاع دی کہ شامی فضائیہ نے دو الگ حملوں میں زہریلے مواد سے بھرے بم دوما پر گرائے۔

وی ڈی سی نے کہا کہ پہلا حملہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے ہوا جس میں دوما کے شمال مشرقی علاقے میں عمر ابن الخطاب سٹریٹ پر ایک بیکری پر بم آ گرا۔

ادارے نے شام کے شہری دفاع کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس نے حملے کے بعد فضا میں کلورین گیس کی بو محسوس کی لیکن اس کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا۔

اس نے کہا: 'ہمیں بعد میں لوگوں کی لاشیں ملیں جو زہریلی گیسوں کا نشانہ بنے تھے۔ وہ بموں سے بچنے کے لیے بند جگہوں پر جا چھپے تھے، اس کی وجہ سے وہ گیس کا شکار ہو گئے۔ کسی نے ان کی چیخیں نہیں سنیں۔'

وی ڈی سی کے مطابق دوسری حملہ قریب ہی واقع شہدا چوک پر ساڑھے سات بجے ہوا۔

شامی شہری دفاع اور سیریئن امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (ایس اے ایم ایس) کے مطابق پونے آٹھ بجے 500 مریض، جن کی اکثریت عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی، مختلف طبی مراکز میں لائے گئے۔ ان کے اندر زہریلی گیس سے متاثر ہونے کی علامات تھیں۔

اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں ان تنظیموں نے کہا کہ ان لوگوں کی جلد نیلی پڑ گئی تھی، منھ جھاگ آلود تھے، آنکھوں کا قرنیہ جلا ہوا تھا اور ان سے کلورین کی طرح کی بو آ رہی تھی۔

امدادی کارکنوں نے لوگوں کے گھروں میں جا کر دیکھا انھیں وہاں لاشیں ملیں جن کے منھ جھاگ سے بھرے اور جسم نیلے پڑے تھے۔

ادارے کے مطابق بچنے والے متاثرہ افراد کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی، اور ان کی آنکھوں میں سوزش تھی۔ ہسپتال میں کام کرنے والے ایک میڈیکل کے طالب علم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے ایک مریض کا علاج کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مر گیا۔ 'اس کی پتلیاں پھیلی ہوئی تھیں اور منھ میں جھاگ تھی۔ اس کا دل بہت سست رفتاری سے چل رہا تھا۔ وہ جب کھانستا تو منھ سے خون نکلتا تھا۔'

دوما ریوولوشن نامی تنظیم نے کچھ ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں بچوں، عورتوں اور مردوں کی لاشیں دکھائی گئی تھیں۔ ان میں سے کچھ کے منھ اور ناک سے جھاگ نکل رہی تھی۔

کل کتنے لوگ مارے گئے؟

وی ڈی سی نے کہا ہے کہ بیکری پر ہونے والے پہلے حملے میں 25 افراد مارے گئے، جب کہ 20 لوگ شہدا چوک کے حملے کا نشانہ بنے۔

شہری دفاع اور ایس اے ایم ایس نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کو 42 لاشیں ملیں۔ ایک شخص ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا، جب کہ چھ دوسرے علاج کے دوران چل بسے۔ کارکن تیز بو کی وجہ سے مزید گھروں میں داخل نہیں ہو پائے۔

طبی تنظیم یو او ایس ایس ایم نے ابتدا میں 70 لوگوں کی موت کی اطلاع دی تھی، تاہم پیر کو اس نے یہ تعداد کم کر کے 42 کر دی، البتہ یہ بھی کہا کہ اس میں اضافے کا امکان ہے۔

برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جمعے اور ہفتے کو ہونے والے فضائی حملوں میں ایک سو کے قریب لوگ مارے گئے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس میں 21 ایسے افراد شامل ہیں جو دم گھٹنے سے مرے، تاہم ادارہ اس کی وجہ کا تعین نہیں کر سکا۔

کون سی گیس؟

پیر کو کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے کہا کہ اس کا ایک تصدیقی مشن 'تمام دستیاب ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ تصاویر یا ویڈیو دیکھ کر ٹھیک ٹھیک پتہ چلانا ناممکن ہے کہ کوئی زہریلی گیس استعمال ہوئی ہے۔ واحد طریقہ یہ ہے کہ متاثرین سے نمونے لے کر تجربہ گاہ میں ان کی تصدیق کی جائے۔ تاہم بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو دوما میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے کیوں کہ شامی حکومت نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مریضوں پر پانی ڈالا گیا تاکہ اگر کوئی کیمیائی مواد ہے تو وہ دھل جائے

شامی شہری دفاع اور ایس اے ایم ایس کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والے ممکنہ طور پر آرگینوفاسفیٹ جیسے کسی کیمیکل کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ کیمیکل کیڑے مار ادویات اور کیمیائی اسلحے میں استعمال ہوتا ہے۔

یو او ایس ایس ایم نے بھی متاثرین کی علامات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کا باعث نرو ایجنٹ ہے جس میں کلورین گیس بھی شامل تھی۔ ادارے کے ڈاکٹر رفال بٹی نے کہا کہ کلورین کو نرو ایجنٹ سارین کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

امریکہ نے بھی کہا ہے کہ علامات کسی قسم کے نرو ایجنٹ جیسی لگتی ہیں۔

شامی حکومت کا موقف

شامی حکومت نے بار بار کبھی بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی ہے۔ اس کا الزام ہے کہ باغیوں نے من گھڑت رپورٹیں بنا کر نشر کیں تاکہ الزام حکومت پر دھرا جا سکے اور اسے دوما پر قبضے سے باز رکھا جائے۔

وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا: 'جب بھی شامی فوج دہشت گردی کے خلاف پیش قدمی کرتی ہے، کیمیائی ہتھیاروں کا دعویٰ سامنے آ جاتا ہے۔'

روس نے بھی دوما سے آنے والی رپورٹوں کو 'بوگس' قرار دیاہے۔ اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ روسی فوجی ماہرین نے دوما کا دورہ کر کے تصدیق کی ہے کہ 'زمین پر کسی قسم کے کیمیائی اجزا نہیں ملے، نہ لاشیں ملیں اور نہ ہی زہر سے متاثرہ لوگ ہسپتالوں میں پائے گئے۔'

بین الاقوامی برادری کا ردِ عمل

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ انھیں دوما سے آنے والی رپورٹوں پر غم و غصہ ہے اور 'کسی بھی قسم کا کیمیائی حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔'

صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ 'شام میں بےگناہ شہریوں کو ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا وحشیانہ نشانہ بنایا گیا ہے۔'

ایک سال قبل انھوں نے باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبے خان شیخون پر ہونے والے سارین گیس کے حملے کے بعد ایک شامی ہوائی اڈے پر حملے کا حکم دیا تھا۔

برطانیہ اور فرانس نے بھی کہا ہے کہ دوما پر ہونے والا حملہ اس سے قبل شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حملوں سے مشابہت رکھتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی فوج نے ہفتے کو دوما کی طرف پیش قدمی کی تھی

اس سے قبل شام میں کب کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے؟

اگست 2013 میں غوطہ شہر پر میزائل داغے گئے تھے جن میں سارین گیس تھی۔ اس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے تصدیق کی تھی کہ سارین گیس استعمال ہوئی ہے لیکن کس نے کی ہے؟ اس کی تصدیق وہ نہیں کر سکے تھے۔

مغربی ملکوں نے نتیجہ نکالا کہ صرف شامی حکومت ہی ایسا حملہ کر سکتی ہے، چنانچہ صدر اسد پر پڑنے والے دباؤ کے زیرِ اثر شام کے ظاہر کردہ کیمیائی ہتھیار تباہ کر دیے گئے۔

اقوامِ متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کے مشترکہ مشن نے کہا تھا کہ وہ اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ اپریل 2017 میں خان شیخون پر ہونے والے کیمیائی حملے میں سرکاری فوج ملوث تھی۔ تاہم صدر اسد نے اسے بھی من گھڑت قرار دیا تھا۔

مشن نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے تین موقعوں پر حکومت کی جانب سے باغیوں کے خلاف کلورین گیس استعمال کرنے کے شواہد ملے ہیں۔

اسی بارے میں