’اگر کیمیائی ہتھیاروں کا پھر استعمال ہوا تو ہم بھی پوری طرح دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں’

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شام نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے 'پوری طرح تیار ہے'۔

امریکی صدر کی یہ تنبیہ امریکہ اور اس کے دو اور اتحادیوں کے اس حملے کے بعد آئی ہے جب انھوں شامی حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں گذشتہ روز شام کے تین مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔

واضح رہے کہ شام نے مسلسل کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کی تردید کی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے مرکزی اتحادی ملک روس نے اس حملے کی مذمت کے لیے قرار داد پیش کی لیکن وہ مسترد کر دی گئی۔

روسی قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے دوما میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

اس سے قبل روس نے اسی قسم کے منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔

اقوام متحدہ میں رد عمل:

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا

حملوں کے بعد سلامی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں گرما گرمی کا ماحول دیکھنے میں آیا جب روس نے مغربی ممالک کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نبینزیا نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کی پیغام پڑھا جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔

واسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر 'غنڈہ گردی' کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے 'عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔'

دوسری جانب امریکہ کی اقوام متحدہ میں تعینات سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ حملے 'بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب' تھے۔

'میں نے صدر ٹرمپ سے اس بارے میں آج صبح گفتگو کی ہے اور انھوں نے کہا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو ہم بھی پوری طرح دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔'

نکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سفارتی کاری کو مسلسل مواقع دیے لیے روس اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرتا چلا گیا۔

'ہم مزید ایسا ہونا نہیں دے سکتے کہ روس تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بلا خوف و خطر بلا دریغ استعمال کرے۔'

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بعد گذشتہ روز امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر متعدد میزائل داغے اور امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ انھوں نے ’مشن مکمل‘ کر لیا ہے جبکہ روسی صدر نے اس حملے کی شدید مذمت کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں شام پر کیے جانے والے حملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'گذشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کی۔ اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔'

یہ بھی پڑھیے

کب کیا ہوا

ٹوماہاک میزائل: کتنے ہدف تک پہنچے، کتنے تباہ کیے گئے؟

امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ: لائیو کوریج

امریکہ، برطانیہ اور روس کی عسکری قوت کا موازنہ

انھوں نے اس حملے کے بارے میں ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ یہ حملہ 'بے عیب طریقے‘ سے رو باعمل لایا گیا اور ساتھ ہی انھوں نے فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ادا کیا۔

ادھر روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی 'سخت ترین طریقے سے' مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔

روسی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو 'جارحیت' قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔

دوسری جانب شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ شامی سرزمین پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے میزائل حملے ’بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے‘۔

کن اہداف پر میزائل داغے گئے:

  • دمشق کے قریب واقع جمرایا اور برزہ میں دو ریسرچ سینٹرز
  • المزہ ملٹری ایئر فیلڈ میں سٹور جو ریپبلیکن گارڈز کی چوتھی ڈویژن کا ہے
  • دمشق کے قریب کسوہ میں سٹور ہاؤسز
  • حمص میں سائنٹیفک ریسرچ سینٹر

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام کے ایئر ڈیفنس نے امریکہ اور اس کے دو اتحادیوں کی طرف سے داغے گئے میزائلوں میں سے 65 کو تباہ کیا۔

اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ امریکی اور اس کے اتحادیوں نے 103 میزائل داغے جن میں سے 71 میزائلوں کو شامی ایئر ڈیفنس نظام نے تباہ کر دیا گیا۔

روس نے مزید کہا تھا کہ شام میں روس کے زیر استعمال بندرگاہ اور اس سے متصل ایئر فیلڈز جہاں پر روس نے نیا فضائی ڈیفنس سسٹم نصب کیا ہے ان علاقوں میں کوئی مغربی میزائل داخل نہیں ہوا۔

تاہم امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بریفنگ میں کہا کہ ہر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ شام کا ایئر ڈیفنس سسٹم مجموعی طور پر غیر موثر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ’جب دہشت گرد ناکام ہوئے تو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مداخلت کر دی اور شام پر جارحیت پر کمربستہ ہو گئے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’شام کے خلاف یہ جارحیت ناکام ہو جائے گی۔‘

عالمی ردِعمل

ایران

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام پر مغربی ممالک کا حملہ ایک جرم ہے جو کہ بے سود رہے گا۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ 'امریکہ اور اتحادی شام میں جرائم سرزد کر کے کچط حاصل نہیں کریں گے۔ شام پر حملے کرنا جرم ہے۔ امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر مجرم ہیں۔'

ترکی

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے خلاف حملے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے مناسب کارروائی قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دوما کے حملے کے پس منظر میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے حملے نے انسانی ضمیر کو آسودہ کیا ہے۔

انقرہ نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے دوما میں ہونے والا مشتبہ کیمیائی حملہ انسانیت کے خلاف جرم تھا اور اسے بغیر سزا کے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اسرائیل

اسرائیل نے شام پر فضائی حملوں کے بارے میں بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ آج امریکی قیادت میں فرانس اور برطانیہ نے اس پر عمل کیا ہے۔

'شام مسلسل قاتلانہ اقدامات میں ملوث ہے اور ان کے لیے دوسروں کو جگہ فراہم کر رہا ہے، بشمول ایران کے، جس سے اس کا علاقہ، فوج اور قیادت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں