ٹوماہاک میزائل: کتنے ہدف تک پہنچے، کتنے تباہ کیے گئے؟

ٹوماہاک میزائل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شامی شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی افواج نے شام پر متعدد میزائل داغے ہیں۔

امریکی ڈائریکٹر آف جائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل کینتھ میکنزی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے آٹھ سٹارم شوٹر، جب کہ فرانس نے سکیلپ میزائل فائر کیے، تاہم زیادہ تر میزائل امریکہ کی جانب سے آئے اور یہ سب ٹوماہاک میزائل تھے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ نے 100 سے زائد ٹوماہاک میزائل فائر کیے۔

ان میزائلوں میں سے کتنے اہداف تک پہنچے، اور کتنوں کو راستے میں مار گرایا، اس بارے میں دونوں دھڑوں کی جانب سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

برطانیہ میں قائم ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شامی فضائی دفاع نے شام پر داغے جانے والے میزائلوں میں سے 65 سے زائد کو مار گرایا ہے۔

اس سے قبل روسی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ 103 میں سے 71 میزائل شامی فوج نے راستے میں روک دیے۔

شامی بریگیڈیئر جنرل علی میعوب نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ 'ہمارے فضائی دفاع نے ان میں سے اکثر میزائل مار گرائے ہیں۔'

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میزائل اس نے داغے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ضائع نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ یہ کارروائی ’بےعیب‘ رہی۔

جدید ترین ’ذہین‘ میزائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل روس کو خبردار کیا تھا کہ ’تیار رہو،‘ امریکہ کے ’ذہین‘ میزائل آ رہے ہیں۔ اس وقت انھوں نے نام نہیں لیا تھا لیکن اب ظاہر ہو گیا ہے کہ ان کی مراد ٹوماہاک میزائل تھی۔

ٹوماہاک نامیاس جدید ترین میزائل سسٹم کی صلاحیت اور نمایاں خصوصیات کیا ہیں، ذیل میں اس کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹوماہاک زمینی اہداف پر گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی مدد سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا امریکی میزائل ہے جسے بحری جہازوں یا آبدوزوں سے داغا جا سکتا ہے۔

میزائل بنانے والی کمپنی رےتھیون کے مطابق امریکہ اور اس کے حلیف اب تک اسے دو ہزار بار مختلف جنگوں میں استعمال کر چکے ہیں۔

اپریل 2017 میں امریکہ نے شام پر 59 ٹوماہاک میزائل داغے تھے، جب کہ 2014 میں ایک امریکی بحری جہاز نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر 47 میزائل برسائے تھے۔

رےتھیون کے مطابق ان میزائلوں کا جدید ترین ورژن ٹوماہاک بلاک 4 ہے، جس میں دوطرفہ سیٹیلائٹ لنک نصب ہے جس کی مدد سے اس کا ہدف پرواز کے دوران تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس میزائل کی خوبی یہ ہے کہ یہ متحرک ہدف کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔

ٹوماہاک ٹیرین کنٹور میچنگ سافٹ ویئر کی مدد سے مقررہ نشانے تک پہنچتا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے یہ زمینی نقشے کو اپنے روٹ کے نقشے کے ساتھ ملا کر استعمال کرتا ہے۔

یہ میزائل ہر قسم کے موسم میں اور رات کے وقت بھی اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ میزائل چھوٹے چھوٹے ٹربو فین انجنوں کی مدد سے اڑتا ہے۔ یہ انجن ویسے ہی ہیں جیسے مسافر طیاروں میں پائے جاتے ہیں۔

یہ بہت کم اونچائی پر پرواز کرسکتا ہے جس کی وجہ سے ریڈار کی مدد سے اس کا پتہ چلانا مشکل ہے۔ چونکہ یہ بہت کم گرمی کا اخراج کرتے ہیں اس لیے انفراریڈ کے ذریعے ان کا سراغ آسانی سے نہیں لگایا جا سکتا۔

یہ میزائل 1600 کلو میٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو 880 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے نشانہ بنا سکتا ہے، جب کہ اس میں 450 کلوگرام سے 1360 کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی محکمۂ دفاع کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ٹوماہاک میزائل کی قیمت تقریباً 15 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہفتے کے روز شام پر ہونے والے حملے میں صرف میزائلوں کا خرچ تقریباً 16 کروڑ 29 لاکھ ڈالر آیا ہے۔

ٹوماہاک کی تاریخ

ٹوماہاک میزائل سسٹم سب سے پہلے 1970 کی دہائی میں تیار کیا گیا تھا۔

امریکہ نے انھیں سب سے پہلے 1991 میں خلیج کی پہلی جنگ کے دوران عراق کے خلاف استعمال کیا تھا، جب امریکی بحری جہازوں اور آبدوزوں نے 288 میزائل داغے تھے۔

اس کے بعد 1999 میں امریکہ نے افغان شہر سروبی میں اسامہ بن لادن کے خلاف بھی ٹوماہاک استعمال کیے تھے لیکن اسامہ بن لادن اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

ٹوماہاک دراصل ایک قسم کی کلھاڑی کو کہتے ہیں جسے اصل امریکی باشندے (ریڈ انڈین) استعمال کرتے تھے۔ یہ چھوٹی سی کلھاڑی ہوتی ہے جسے دور سے پھینک کر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ریڈ انڈین زبانوں میں ٹاماہاک کا مطلب کاٹنے کا آلہ ہے۔

اسی بارے میں