شام پر حملہ قانونی اعتبار سے مشتبہ ہے: برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما

جیریمی کوربن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن نے وزیرِ اعظم ٹریزا مے کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انھوں نے وزیرِ اعظم سے شام میں برطانوی حملے کی قانونی حیثیت کے بارے میں پوچھا ہے۔

خط میں لیبر پارٹی کے سربراہ لکھتے ہیں: 'میں سجھتا ہوں کہ اس معاملے پر برطانوی پارلیمان سے ووٹنگ کروائی جانی چاہیے تھی۔ برطانوی وزیرِ اعظم پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے، نہ کہ امریکی صدر کی خواہشات کا۔ میرا خیال ہے کہ یہ عمل قانونی طور پر مشتبہ ہے، اور صبح اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی یہی کہا ہے۔'

کوربن نے مزید لکھا ہے: 'اقوامِ متحدہ یا کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے او پی سی ڈبلیو نے ابھی تک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں کی، اس لیے یہ بات واضح ہے کہ تمام سفارتی اور غیر فوجی ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کاروں کو اپنا کام کرنے دیا جائے جو آج دوما پہنچنے والے ہیں۔'

ٹریزا مے نے جیریمی کوربن کو جمعے کی رات بلا کر انھیں شام پر ہونے والے حملے کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔

تاہم اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیریمی کوربن اس بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے جس کے بعد انھوں نے یہ کھلا خط لکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں