جہاز بحفاظت اتار لینے پر ’فولادی اعصاب کی مالک‘ خاتون پائلٹ کی تحسین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters/US Navy
Image caption ٹیمی جو شلٹس نے نیوی میں جنگی جہاز بھی اڑائے تھے

امریکہ میں ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز کے مسافر طیارے کو دورانِ پرواز ایک انجن پھٹ جانے کے بعد بحفاظت زمین پر اتار لینے والی خاتون پائلٹ کو جہاز کے مسافر ہیرو قرار دے رہے ہیں۔

اس واقعے کے دوران جہاز کی ایک کھڑکی ٹوٹنے سے ایک خاتون مسافر باہر لٹک جانے سے ہلاک ہو گئیں۔

ٹیمی جو شلٹس نے ہنگامی صورت حال کے بعد فلائٹ 1380 کو فلاڈیلفیا کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا۔

اسی بارے میں

مسافر طیارے کا دوران پرواز ’انجن پھٹ گیا‘، ایک مسافر ہلاک

ایران: مسافر طیارہ گر کر تباہ، ’تمام 66 افراد ہلاک‘

طیارے کے انجن میں سوراخ، بحفاظت لینڈنگ

نیویارک سے ڈیلس جانے والی پرواز میں 149 مسافر سوار تھے۔

جہاز کو پیش آنے والے حادثے کے وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انجن کے پنکھے کا جو پر ٹوٹا ہے وہاں شاید کوئی دھات ٹکرائی تھی۔

پائلٹ کون تھیں؟

کیپٹن شلٹس کا نام ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز نے نہیں بتایا تاہم جہاز پر سوار مسافروں نے انھیں ہیرو قرار دیا۔ ان کے شوہر نے بھی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ جہاز کا کنٹرول انھی کے ہاتھ میں تھا۔

امریکی نیوی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان خاتون پائلٹس کے پہلے دستے میں شامل تھیں جنھیں ٹیکٹیکل ائیر کرافٹس کی تربیت دی گئی تھی۔

نیو میکسیکو سے گریجویشن کرنے والی شلٹس نے حیاتات اور زراعت کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ فوج میں آ گئیں۔

انھوں نے دس سال تک امریکی نیوی میں کام کیا۔ سنہ 1993 میں فوج چھوڑنے سے قبل انھوں نے جنگی جہاز بھی اڑائے۔ وہ لیفٹیننٹ کمانڈر کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔

ان کے شوہر ڈین شلٹس بھی پائلٹ ہیں۔

دو بچوں کی ماں شلٹس کا موازنہ سوشل میڈیا پر کیپٹن چیسلی سلی سے کیا جا رہا ہے جنھوں نے سنہ 2009 میں امریکی ائیر ویز کا جہاز ہنگامی طور پر دریائے ہڈسن میں اتارا تھا۔

’فولادی اعصاب کی مالکہ‘

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر ایلفرڈ ٹملنسن نے انھیں ’فولادی اعصاب‘ کی مالکہ قرار دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں ان کے لیے تالیاں بجاتا ہوں۔ میں انھیں کرسمس پر کارڈ بھیجوں گا کیونکہ انھوں بنے مجھے بحفاظت زمین پر اتارا۔‘

ایک اور مسافر ڈیانا مکبرائڈ نے کیپٹن شلٹس کی ایک تصویر فیس بک پر ڈالی جو بحفاظت لینڈنگ کے بعد مسافروں سے مل رہی تھیں۔

انھوں نے لکھا: ’پائلٹ ٹیمی جو شلٹس ہم سب سے ذاتی طور پر ملنے اور بات کرنے آئیں۔ یہ سچ ہے۔‘

’ایک پریشان کن صورت حال میں ان کی بہادری، رہنمائی اور قابلیت پر ان کا بہت بہت شکریہ۔‘

اس واقعے میں ہلاک ہونے والی واحد خاتون سر اور کندھوں پر شدید چوٹیں آنے سے ہلاک ہوئیں۔ جبکہ دیگر سات مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔

وہ سنہ 2009 کے بعد امریکہ میں کسی کمرشل پرواز میں ہلاک ہونے والی واحد خاتون ہیں۔

جہاز کو ہوا کیا تھا؟

پرواز کے 20 منٹ بعد ہی بوئنگ 737 کے انجن سے ایک ٹکڑا ٹوٹ نکل کر مسافروں کے حصے میں آ لگا جس سے سوراخ ہونے پر جہاز میں ہوا کے دباؤ کا تناسب بگڑ گیا اور تیزی سے نیچے آنے لگا۔

آکسیجن ماسک لگائے مسافر خوف سے چلانے لگے۔

وفاقی تفتیش کاروں کے مطابق کچھ سیکنڈوں کے لیے جہاز 41 درجے کے زاویے تک ٹیڑھا ہو گیا۔

پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو بتایا کہ جہاز اب ایک انجن پر اڑ رہا ہے۔

’ہمارے جہاز کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہے اس لیے ہم رفتار کم کر رہے ہیں۔ کچھ مسافر زخمی ہوئے ہیں۔‘

کنٹرول ٹاور کی ریکارڈنگ میں سنا جا سکتا ہے کہ ’ایک مردانہ آواز میں جواب آیا: ’مسافر زخمی ہیں، کیا جہاز میں آگ لگ گئی ہے؟‘

کیپٹن جواب دیتی ہیں: ’نہیں آگ نہیں لگی لیکن جہاز کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہے۔‘

انھوں نے پرسکون انداز میں مزید کہا: ’وہ بتا رہے ہیں کہ جہاز میں سوراخ ہو گیا ہے اور کوئی مسافر باہر گر گیا۔‘

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دھاتی چیز انجن کے 24 پنکھوں میں سے نکل کر کسی ایک سے ٹکرائی اور وہ ٹوٹ گیا۔

حکام اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں