امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی ہے: امریکی میڈیا

Mike Pompeo (right), Kim Jong-un and Donald Trump تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیک پیم پےاو (بائیں) نے مبینہ طور پر ایسٹر کے موقعے پر شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا

امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پوم پےاو ایک خفیہ دورے پر شمالی کوریا گئے تھے جہاں انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کی تفصیلات طے کرنا تھا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

’شمالی کوریا جوہری پروگرام پر گفتگو کرنے کے لیے تیار‘

’پابندیوں اور دباؤ نے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا‘

’ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے ملاقات کے خطرات جانتے ہیں‘

یہ غیرمتوقع اور خفیہ ملاقات امریکہ کا شمالی کوریا کے ساتھ 2000 کے بعد سے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں کہا ہے کہ ’انتہائی اعلیٰ سطح پر ہماری براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے جنوبی اور شمالی کوریا کو 1950-1953 کی کورین جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے لیے امن معاہدے پر بات چیت کرنے کے لیے ’نیک خواہشات‘ کا اظہار کیا تھا۔

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ بات چیت میں کون شامل تھا تاہم امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پوم پےاو نے ایسٹر کے موقعے پر شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا جہاں ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

اس خفیہ ملاقات کے بارے میں زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس کا مقصد ٹرمپ کم سربراہی ملاقات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اخبار لکھتا ہے کہ ملاقات اس کے فوراً بعد ہوئی جب صدر ٹرمپ نے پوم پےاو کو وزیرِ خارجہ کے طور پر نامزد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بعد ازاں خبررساں ادارے روئٹرز نے بھی اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ انھیں یہ بات سینیئر حکام نے بتائی ہے۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیراعظم شِنزو آبے سے ملاقات کے موقعے پر بتایا کہ’ہماری اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور اس وقت پانچ مقامات زیر غور ہیں جہاں میری کم جونگ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔‘

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات جون کے ابتدا میں یا اس سے کچھ دیر پہلے ہو سکتی ہے۔

جاپانی وزیراعظم شِنزو آبے نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات پر رضامند ہونے کے جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ جاپان کو خدشات ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان باہمی بات چیت کے منصوبے میں جاپان نظرانداز ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے معاملے پر متحد ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔

رواں ماہ کے شروع میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے جوہری ہتھیاروں اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی ملاقات کی خبر مارچ میں سامنے آئی تھی اور وہ عالمی برادری کے لیے نہایت حیران کن تھی۔ واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے ایک سال قبل تک ان دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کیے اور دھمکیاں تک دی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں