گھریلو تشدد کا شکار مرد: ’میں موت سے دس دن دور تھا‘

جورڈن ورتھ اور ایلکس سکیل تصویر کے کاپی رائٹ SBNA
Image caption گھریلو تشدد کے جرم میں جورڈن ورتھ کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے

برطانیہ میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ 'موت سے دس دن دور تھے' جب پولیس اور طبی عملے نے ان کی مدد کی تھی۔

برطانیہ کے علاقے بریڈفورڈشائر کے رہائشی 22 سالہ ایلکس سکیل نے پرتشدد تعلقات کا شکار بننے والے افراد سے مطالبہ کیا ہے وہ اس بارے میں کھل کر بات کریں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی سابقہ پارٹنر 22 سالہ جورڈن ورتھ نے انھیں مختلف جسمانی چوٹیں پہنچائیں، خوراک نہیں دی اور ان کو خاندان والوں سے دور رکھا۔

جورڈن ورتھ کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بریڈفورڈ شائر پولیس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گھریلو تشدد کے مقدمے میں سزا پانے والی یہ پہلی خاتون ہیں۔

لٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ جورڈن ورتھ اور سکیل کی ملاقات سنہ 2012 میں کالج میں ہوئی تھی جب دونوں کی عمریں 16 برس تھیں۔

آغاز سے ہی جورڈن ورتھ نے ان پر اپنا اختیار رکھا تھا، وہ انھیں بتاتیں کہ وہ کیا پہنیں اور ان پر ہاتھ بھی اٹھاتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SBNA
Image caption جورڈن ورتھ اور سکیل کی ملاقات سنہ 2012 میں کالج میں ہوئی تھی جب دونوں کی عمریں 16 برس تھیں

اپنے نو ماہ کے تعلق کے دوران جورڈن ورتھ نے اپنے پارٹنر کو کئی مرتبہ جسمانی چوٹیں پہنچائیں جن میں سے اکثر کے علاج معالجے کے لیے انھیں ہسپتال بھی جانا پڑا۔

تشدد کا یہ سلسلہ گذشتہ جون کی ایک شام ختم ہوا جب ایک ہمسائے نے ان کے گھر سے چیخوں کی آواز سن کر پولیس کو بلایا۔

ایلکس سکیل نے بتایا کہ انھیں اپنے زخموں کے علاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بتایا گیا کہ 'میں موت سے دس دن دور تھا۔'

جورڈن ورتھ نے ان کے تمام موبائل بھی توڑ دیے تھے تاکہ وہ اپنے دوستوں یا خاندان والوں کے ساتھ رابطہ نہ کر سکیں۔

چوٹوں اور زخموں کے باعث ان کے سر کے کئی آپریشن بھی ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں