کم جونگ ان سے ملاقات فائدہ مند نہ ہوئی تو بات چیت ادھوری چھوڑ کر چلا جاؤں گا: صدر ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ، کم جونگ ان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے طےشدہ مذاکرات 'فائدہ مند' ثابت نہ ہوئے تو وہ بات چیت کے دوران ہی اٹھ کر چلے جائیں گے۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ اور جاپان کے وزیراعظم شِنزو آبے کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ شمالی کوریا پر جوہری پروگرام کے خاتمے کا دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا کہ کم جونگ ان سے ملاقات کامیاب ثابت ہو گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ باعزت طریقے سے اجلاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔

انھوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا میں قید تین امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

اسی بارے میں

’شمالی کوریا جوہری پروگرام پر گفتگو کرنے کے لیے تیار‘

’پابندیوں اور دباؤ نے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا‘

’ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے ملاقات کے خطرات جانتے ہیں‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ شمالی کوریا پر اس وقت تک زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم جاری رہے گی جب تک وہ جوہری اسلحے میں تخفیف نہیں کرتا۔

’جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ شمالی کوریا کے لیے ایک روشن راستہ موجود ہے جب یہ جوہری اسلحے میں تخفیف کرتا ہے جو ناقابل واپسی اور مکمل اور تصدیق شدہ ہو۔ ان کے لیے اور دنیا کے یہ بہت بڑا دن ہو گا۔‘

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پوم پےاو کے خفیہ دورے پر شمالی کوریا جانے اور وہاں کم جونگ ان سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مائیک پوم پےاو نے کم جونگ ان سے اچھے تعلقات استوار کر لیے تھے اور یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔

خیال رہے کہ بدھ کو امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پوم پےاو ایک خفیہ دورے پر شمالی کوریا گئے تھے جہاں انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کی تفصیلات طے کرنا تھا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔

یہ غیرمتوقع اور خفیہ ملاقات امریکہ کا شمالی کوریا کے ساتھ 2000 کے بعد سے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں کہا ہے کہ ’انتہائی اعلیٰ سطح پر ہماری براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیک پیم پےاو (بائیں) نے مبینہ طور پر ایسٹر کے موقعے پر شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔

رواں ماہ کے شروع میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے جوہری ہتھیاروں اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی ملاقات کی خبر مارچ میں سامنے آئی تھی اور وہ عالمی برادری کے لیے نہایت حیران کن تھی۔ واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے ایک سال قبل تک ان دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کیے اور دھمکیاں تک دی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں