سعودی عرب: ریاض میں ’کھلونا‘ ڈرون کی پرواز، حکام کی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب ریاض میں سکیورٹی فورسز نے بلا اجازت پرواز کرنے والے ڈرون کو نشانہ بنایا ہے۔

سنیچر کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ریاض میں شاہی محل کے قریب فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے کچھ دیر کے بعد ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی ویب سائٹ پر ریاض پولیس کے ترجمان کا بیان جاری کیا گیا۔

بیان میں تصدیق کی گئی کہ شب سات بجکر پچاس منٹ پر ریاض میں خزامہ کے قریب بغیر کسی اجازت کے سکیورٹی پوائنٹ پر تفریح کے لیے استعمال ہونے والے ایک چھوٹے ڈرون کو اڑتے ہوئے دیکھا گیا۔

مزید پڑھیے

پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی مشقیں

سعودی عرب میں دھماکہ، فوجی اہلکار ہلاک

بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے خود کو دیے جانے والے احکامات اور ہدایات کے مطابق صورتحال سے نمٹا۔

اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس ڈرون کو نشانہ بنا کر مار گرایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سعودی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس واقعے کے وقت شاہ سلمان اپنے محل میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ دیریا میں موجود اپنے فارم میں تھے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل سعودی عرب میں صوبہ عسير‎ میں چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

گذشتہ برس ہی سعودی شہر جدہ میں ایک شاہی محل کے باہر فائرنگ کے واقعے میں دو سکیورٹی گارڈز ہلاک اور تین دیگر محافظ زخمی ہو گئے تھے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک 28 سالہ شخص ڈرائیو کرتا ہوا جدہ کے 'السلام محل' کے دروازے تک پہنچ گیا اور اس نے سکیورٹی پر تعینات محافظوں پر گولیاں چلائیں۔

اس سے کچھ عرصہ پہلے مشرقی شہر قطیف میں خود ساختہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں