ٹائٹینک کا مینو کارڈ ایک لاکھ پاؤنڈ میں نیلام

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یہ مینو کارڈ دو اپریل سنہ 1912 کو ٹائٹینک پر پیش کیا گیا تھا

ایک صدی قبل حادثے کا شکار ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز ٹائٹینک پر پیش کیے جانے والے پہلے کھانے کا مینو کارڈ ایک لاکھ پاؤنڈ میں نیلام ہوا ہے۔

یہ مینو کارڈ دو اپریل سنہ 1912 کو ٹائٹینک پر پیش کیا گیا تھا۔

مینو کارڈ کے مطابق دو اپریل سنہ 1912 کو افسران کو دوپہر کے کھانے میں کنسمی مریٹری، سویٹ بریڈ اور سپرنگ لیمب پیش کیا گیا۔

یہ مینو کارڈ ٹائٹینک کے سب سے سینیئر اہلکار سکینڈ آفیسر چارلس لائٹ ٹولر کی ملکیت تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹائٹینک کا آخری خط 119,000 پاؤنڈ میں فروخت

ٹائٹینک کا وائلن ریکارڈ قیمت میں فروخت

چارلس لائٹ ٹولر نے 10 اپریل سنہ 1912 کو یہ مینو کارڑ ساؤتھ ایمپٹن سے روانہ ہوتے وقت اپنے بیوی کو دیا تھا۔

نیلامی کے منتظم ایلن ایلڈریج کا کہنا ہے ’یہ مینو کارڈ دنیا میں پائے جانے والے نایاب ترین نایاب کارڈوں میں سے ایک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ HENRY ALDRIDGE AND SON
Image caption چارلس لائٹ ٹولر نے 10 اپریل سنہ 1912 کو یہ مینو کارڑ ساؤتھ ایمپٹن سے روانہ ہوتے وقت اپنے بیوی کو دیا تھا

ٹائٹینک کا یہ مینو کارڈ سنچیر کو ہینری ایلڈریج اینڈ سن ان ڈیزز میں ہونے والی ایک نیلامی میں ایک برطانوی کلکٹر کو فروخت کیا گیا۔

تباہ ہونے والے بحری جہاز کے چارٹ روم کی چابی ٹیکساس کے ایک کلکٹر کو 78,000 پاؤنڈ میں فروخت کی گئی جبکہ ایک سٹیورڈ کا بیچ 57,000 برطانوی پاؤنڈ میں فروخت ہوا۔

یہ بیچ تھامس مولن نامی شخص کی ملکیت تھا اور وہ اس کی لاش کے ساتھ ملا تھا۔

فرم کے اینڈریو ایلڈریج نے کہا ’ہم نیلامی کے نتائج سے خوش ہیں اور سوچتے ہیں کہ نایاب اشیا کی قیمتیں ٹائٹینک کی کہانی کے ساتھ جاری دلچسپی سے ظاہر ہوتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’دنیا کے چاروں کونوں سے نوادرات کو جمع کرنے والوں نے ان چیزوں کو جھپٹ لیا۔‘

خیال رہے کہ دو اپریل سنہ 1912 کو ٹائٹینک کے سمندر میں آزمائشی سفر کے دوران پیش کیے جانے والے کھانے سے افسران اور عملے لطف اندوز ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں