جنوبی کوریا کا سرحد پر نصب لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے پروپیگنڈا نشریات بند کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان لاؤڈ سپیکرز سے دن بھر میں تقریبا چھ گھنٹے نشریات پیش کی جاتی ہیں

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے مابین کشیدگی میں کمی آنے کے بعد شمالی کوریا سے منسلک اپنی سرحد پر نصب درجنوں لاؤڈ سپیکرز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے پروپیگنڈا نشریات ہوتی تھی۔

جنوبی کوریا نے رواں ہفتے دونوں ممالک کے درمیان متوقع اعلیٰ سطحی بات چیت کے پیش نظر یہ اقدامات کیے ہیں۔

جنوبی کوریا نے سرحد پر شمالی کوریا کی جانب درجنوں لاؤڈسپیکرز نصب کر رکھے ہیں جس کے ذریعے وہ پاپ موسیقی سے لے کر شمالی کوریا کی بحرانی اور نازک صورتحال کی خبریں نشر کرتا ہے۔

یہ نشریات سرحد پر تعینات شمالی کوریا کے فوجی اور اس علاقے میں رہنے والے شہری سنتے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا شمالی کوریا بھی اپنے لاؤڈ سپیکرز بند کرے گا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ شمالی کوریا: جوہری تجربات روکنے کا عالمی سطح پر خیر مقدم

٭ جنوبی کوریا کے وفد کی شمالی کوریا میں ضیافت

شمالی کوریا اپنی سرحد پر نصب ان سپیکرز کے ذریعے عام طور پر سیئول اور اس کے اتحادیوں کی تنقید پر مبنی رپورٹس نشر کرتا ہے۔

جنوبی کوریا کی قومی دفاع کی وزارت نے یونہاپ نیوز ایجنسی کو جاری ایک بیان میں کہا کہ جنوبی کوریا کا یہ قدم جنوب اور شمال کے درمیان فوجی کشیدگی کو کم کرنے اور پر امن مذاکرات کے لیے راہ سازگار کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ وہ اپنے جوہری تجربات کو روک رہا ہے اور جوہری تجربہ کرنے والے ایک مرکز کو بند کر رہا ہے۔

یہ حیران کن اعلان جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ تاریخی مذاکرات سے قبل سامنے آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا کی نشریات میں جمہوریت کی افادیت اور جنوبی کوریا میں خوشگوار زندگی کے پہلو پیش کی جاتی ہیں

پیانگ یانگ کے رہنما کم جونگ ان رواں ہفتے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے سے ملاقات کر رہے ہیں اور یہ ایک دہائی کے دوران پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے سربراہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

کم جونگ ان جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملیں گے اور یہ اقتدار میں رہتے ہوئے دونوں ممالک کے سربراہان کی پہلی ملاقات ہوگی۔

جنوبی کوریا کی پروپیگنڈہ نشریات کوریائی جنگ کے بعد سے چلتی اور بند ہوتی رہی ہے۔ اس کا مقصد شمالی کوریا کے فوجیوں کو ان کے رہنما کی باتوں پر شک کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

سنہ 2004 میں یہ نشریات دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے حصے کے طور پر بند کی گئی تھیں۔

لیکن سنہ 2015 میں شمالی کوریا کی جانب سے غیر فوجی علاقے میں بارودی سرنگ بچھانے اور اس کے نتیجے میں دو جنوبی کوریائی فوجیوں کے شدید زخمی ہونے کے بعد جنوبی کوریا نے ایک بار پھر اپنے لاؤڈ سپیکرز پر نشریات شروع کردی تھیں۔

یہ نشریات 2015 میں اسی سال بند کر دی گئی لیکن پھر شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے جواب میں سنہ 2016 میں یہ نشریات پھر شروع ہو گئیں۔

اسی بارے میں