فرانس میں متنازع امیگریشن بل منظور کر لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس بل پر ووٹنگ کے دوران ایمینوئل میخواں کی پارٹی میں بھی دراڑ نظر آئی

فرانس کی قومی اسمبلی نے نیا سخت امیگریشن قانون منظور کر لیا ہے جس میں پناہ حاصل کرنے کے لیے سخت اصول وضع کیے گئے ہیں۔

اس بل میں پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست کی مدت میں کمی، غیر قانونی تارکین وطن کی حراست کی مدت میں دگنی توسیع اور فرانس میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے کے لیے ایک سال قید کی سزا شامل ہے۔

صدر ایمینوئل میخواں کی برسراقتدار سنٹرسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے پناہ حاصل کرنے کے عمل میں تیزی آئے گی۔

لیکن حزب اختلاف اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بہت زیادہ ہیں۔

یہ بل قومی اسمبلی میں 139 کے مقابلے میں 228 ووٹوں سے منظور کیا گیا جبکہ 24 افراد نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ انتہائی دائیں بازوں کی نیشنل فرنٹ کے اراکین پارلیمان نے حکومت کی حمایت کی جبکہ بائيں بازو کی جما‏عتوں نے اس بل کے خلاف ووٹ دیے۔

اس بل پر ووٹنگ ہفتے کی چھٹیوں کے دن ہوئی کیونکہ اس میں سینکڑوں ترامیم پیش کی گئی تھیں۔

میخواں کی پارٹی ’لا ریپبلک ان مارچ‘ پارٹی کے ایک رکن ژاں میچل کلیمنٹ نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 14 اراکین نے ووٹنگ میں شرکت سے احتراز کیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ایک پناہ گزین اور قوم پرست کی محبت کی کہانی

٭ پناہ گزین کی مجبوبہ قید کی سزا سے بچ گئی

٭ ’حکومت نے صرف کیمپ سے جان چھڑائی‘

سابق سوشلسٹ مسٹر کلیمنٹ نے ووٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا: ’ہم بہت پراعتماد نہیں ہیں کہ ہم دنیا کو وہ آفاقی پیغام دے رہے جو ہمیشہ ہمارا خاصا رہے ہیں۔‘

انھوں نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ پارلمیانی گروپ چھوڑ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست پیش کی مدت میں کمی کا ’سب سے کمزور پناہ گزینوں پر منفی اثر پڑے گا۔ اور اغلب گمان ہے کہ وہی لوگ وقت پر درخواست نہ جمع کرنے والے ہوں گے۔‘

فرانس میں ادارے کے ڈائریکٹر بینیڈکٹ ژانیروڈ نے ایک بیان میں کہا کہ’پناہ حاصل کرنے کے زیادہ مؤثر نظام فراہم کرنے کے بھیس میں بل میں ایسی بہت سی چیزیں موجود ہیں جو تحفظ تک رسائی کو کم کرتے ہیں۔‘

اب اس بل پر جون میں ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بحث ہوگی۔

اسی بارے میں