بیلجیئم: پیرس حملے کے ملزم صالح عبدالسلام کو 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی

صالح عبدالسلام تصویر کے کاپی رائٹ BELGIAN/FRENCH POLICE
Image caption عدالت میں حکم سنایا گیا تو اس وقت نہ تو صالح عبدالسلام اور نہ ہی ان کے ساتھی صفین ایاری عدالت میں موجود تھے

بیلجیئم کی ایک عدالت نے پیرس حملوں کے واحد بچ جانے والے ملزم صالح عبدالسلام کو ان کی گرفتاری کے وقت ہونے والی مسلح لڑائی کا مجرم قرار دے کر انھیں 20 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

28 سال عبدالسلام اور سفیان عیاری کو دہشت گردی سے منسلک اقدامِ قتل کا مرتکب پایا گیا۔

24 سالہ عیاری کو بھی 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان دونوں نے 2016 میں بیلجیئم کے شہر برسلز کے ایک فلیٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔

پیرس: ’حملہ آور صالح‘ کے بارے میں پانچ حقائق

پیرس حملہ: صالح کے وکیل ان کا دفاع نہیں کریں گے

عبدالسلام اس وقت فرانس کی ایک جیل میں ہیں۔ وہ نومبر 2015 میں پیرس پر ہونے والے حملوں کے مرکزی ملزمان میں سے ایک ہیں۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صالح عبدالسلام ان حملوں کے بعد چار ماہ تک مفرور رہے تھے۔

برسلز میں ہونے والے عدالتی کارروائی کے دوران انھوں نے جج کے سوالوں کے جوابات دینے سے انکار کیا اور سماعت کے لیے پیش ہونے سے بھی انکار کیا۔

اس طرح جب پیر کو عدالت میں حکم سنایا گیا تو اس وقت نہ تو صالح عبدالسلام اور نہ ہی ان کے ساتھی عدالت میں موجود تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران جج کا کہنا تھا کہ ’ان دو افراد کے شدت پسندی میں ملوث ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں