ٹورونٹو میں 25 سالہ ایلک میناسیان نے جان بوجھ کر وین لوگوں پر چڑھائی، 10 افراد ہلاک

ٹورونٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ راہ گیروں کو کچلنے والے وین ڈرائیور نے وین کرائے پر لی تھی

کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرائیور نے اپنی وین فٹ پاتھ پر چڑھا کر راہگیروں کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے اکثر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ کافی مصروف علاقہ ہے۔

پولیس نے کرائے پر لی گئی وین کے ڈرائیور کو حراست میں لینے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیا گیا ڈرائیور 25 سالہ ایلک میناسیان ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایلک کی جانب سے یہ اقدام بظاہر جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ تاہم اس حملے کا مقصد کیا تھا ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈ کا کہنا ہے کہ اس ’المناک اور بدحواس حملے‘ سے ’بہت صدمہ‘ ہوا ہے۔

پولیس کی جانب سے حملہ آور پر جو کہ مسلح ہونے کا دعویٰ بھی کر رہا تھا، فائرنگ نہ کرنے کے اقدام کو سراہا گیا ہے۔

سی بی سی نیوز پر نشر ہونے والی ویڈیو میں حملہ آور پولیس کی بندوق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ ’مجھے مار دیں۔‘

پولیس افسر نے اُس شخص کو جب ’نیچے بیٹھنے کو کہا‘ تو اُس نے کہا میرے پاس بھی اسلحہ ہے۔

پولیس نے حملہ آور کو بغیر کوئی گولی چلائے حراست میں لے لیا۔

حملے کے بعد پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں آنے سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر سب وے سروس کو بھی روک دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس واقعے کی تفتیش میں کافی وقت لگے گا، عینی شاہدین سے استدعا ہے کہ وہ تفتیش میں مدد کریں: پولیس

کینیڈا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے تاہم انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ ڈرائیور نے ایسا کیوں کیا؟

ٹورونٹو پولیس کے سربراہ نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش میں کافی وقت لگے گا اور انھوں نے عینی شاہدین سے استدعا کی کہ وہ تفتیش میں مدد کریں۔

ڈرائیور کے حراست میں لیے جانے کے وقت ایک راہ گیر نے ویڈیو بنائی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلک کے ہاتھ میں ایک شے ہے اور پولیس اہلکار اونچی آواز میں ایلک کو زمین پر بیٹھنے کو کہہ رہے ہیں۔

جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر ویڈیو کی دکان کے مالک رضا ہاشمی نے بی بی بی سی کو بتایا کہ ان کو سڑک پر چیخوں کی آواز سنائی دی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سفید وین کو بار بار فٹ پاتھ پر چڑھایا گیا جس نے لوگوں کو روندا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک اور تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نارنجی رنگ کا ایک بیگ ایمبولینس میں رکھا جا رہا ہے۔

ٹورونٹو کے رہائشی ہینری ملر اس واقعے کے عینی شاہد ہیں۔ انھوں نے سکائی نیوز کو بتایا ’اس سڑک پر 60 سے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر ایک سفید وین آئی۔ وہ وین گھومی اور راہگیروں پر چڑھ گئی۔ میرا اندازہ ہے کہ جان بوجھ کر وین کو فٹ پاتھ پر چڑھایا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TPSOPERATION

ایک اور عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا ’میں نے دیکھا کہ ایک سفید وین فٹ پاتھ پر چڑھی۔ لوگ چیخ رہے تھے گاڑی روکو، گاڑی روکو۔ لیکن ڈرائیور گاڑی چلاتا گیا اور کچھ لوگوں کو روند ڈالا۔ میں نے تین افراد کو دیکھا جو گاڑی سے روندے جانے کے بعد نہیں ہلے۔‘

ایک اور شخص نے بتایا کہ وہ اس سفید وین کے بالکل پیچھے تھے۔ ’ڈرائیور لوگوں کو اور یہاں تک کہ میل باکس کو بھی ٹکر مارتا نکل گیا۔ میں نے لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہارن بھی بجایا۔ میں نے کم از کم چھ افراد کو وین کی ٹکر سے ہوا میں اڑتا دیکھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں