کراسنگ ڈیوائڈز: سابق کمسن سپاہیوں کو متاثر کرنے کے لیے چرچ کے سربراہ کی جنگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ماضی کے جانی دشمن آج کے گہرے دوست کیسے بنے؟

مذہبی شخصیت محترم جیکی منوپٹی تقریباً 20 سال قبل انڈونیشیا کے جزیرے امبون میں ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ تنازع کے دوران مسیحیوں کو دیے آشیرباد سے اب بھی خوفزدہ ہیں۔

اس علاقے کے سب سے قدیم گرجا گھر میں ہفتہ وار مذہبی تقریب (سنڈے سروسز) جیکی منوپتی نے وہ وقت یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی مشین گن نہیں اٹھائی، لیکن میرے خیالات، میری دعاؤں اور میرے آشیرباد نے وہ تباہی ڈالی جو شاید ہی کسی بندوق سے ہو سکتی۔‘

انڈونیشیا میں سنہ 1999 میں شروع ہونے والے مذہبی تنازع میں سینکڑوں کم عمر سپاہیوں نے حصہ لیا تھا۔

اس دوران پانچ ہزار افراد مارے گئے اور پانچ لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔

جب 2002 میں ایک امن معاہدہ ہوا تو بہت سے نوجوان مذہبی بنیادوں پر تقسیم معاشرے میں رہنے پر مجبور تھے اور وہ نوجوان اپنے ماضی سے خوفزدہ تھے۔

جیکی منوپتی ایسے نوجوانوں کی مدد کرنے اور انھیں مستقبل کے لیے امید دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ایک مقامی امام عابدین وکانو کے ہمراہ انھوں نے ایک منصوبہ ’پیس پرووکیٹرز‘ کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے دونوں مذاہب کے لوگوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

جن نوجوانوں کی اب تک مدد کی جا چکی ہے ان میں 28 سالہ مسیحی رونالڈ ریگینگ اور 31 سالہ مسلم اسکندر سلامت شامل ہیں، اور دونوں ہی ابتدائی صفوں میں لڑے۔ جب رونالڈ نے پہلے شخص کو مارا تو ان کی عمر صرف دس برس تھی جبکہ اسکندر 13 سال کے تھے۔

معصومیت سے تباہی تک کا سفر

رونالڈ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’میں نے گھر پہ ہی بنے ایک پستول سے قتل کیا۔ میں نے انھیں قریب سے گولی ماری۔ ہم لاشوں کے گرد پریڈ کرتے تھے جس سے ہمیں مزید لڑنے کی طاقت ملتی تھی۔‘

اسکندر ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم بہت سادہ تھے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے کزن کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ’چھوٹے جہادی‘ (منی جہادی) بن گئے۔

اسے رونالڈ کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’اس تنازع کے دوران ہمیں ہماری کم عمری سے قطۂ نظر بہت اہمیت دی جاتی تھی لیکن جیسے ہی یہ سب ختم ہوا تو لوگ ہمارے قریب بھی آنا نہیں چاہتے تھے۔ دوسرے بچوں سے کہا جاتا تھا کہ جنگجو بچوں کے ساتھ نہ ملیں، یہ وہ ہیں جنھوں نے امبون کو تباہ کیا ہے۔‘

’لیکن میں اپنے دل میں سوچتا تھا کہ اگر ہم نہ لڑتے تو کیا آپ زندہ ہوتے؟ کیا یہاں مسیحی ہوتے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس تنازع کے بعد لوگ ہمارے بارے میں اتنا برا کیوں سوچتے ہیں۔ اس سے مجھے دکھ ہوتا ہے، لیکن ہمیں اس سارے قرب سے گزرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔‘

جیکی منوپتی کے خیال میں وہ رونالڈ جیسے نوجوانوں کی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہے اور وہ اپنی شناخت سے مختلف ہیں۔

انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اسے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ انھیں برابر عزت مل سکتی ہے۔‘

جیک منوپتی کسی طرح رونالڈ کو امبون سے باہر جاوا اور فلپائن لے گئے تاکہ ان سے ان کے غمگین تجربے کے بارے میں بات کر سکیں اور دوسروں کو یہ بتانے کی کوشش کرنے کے لیے کہ وہ ان بچوں کو سمجھنے کی کوشش کریں جنھیں لڑنے اور مارنے پر مجبور کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انھیں پرامن سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اجازت دے کر ہم نے دوبارہ سے انھیں وہی عزت دی۔ اب وہ امن کے داعی کے طور پر ہیرو بن گئے ہیں۔‘

مالوکو جزیرے میں امن کی صورتحال نازک ہے اور امن معاہدے کے بعد سے یہ صورتحال کئی بار خراب ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک سے نو کے درمیان اگر میں امن کو رکھنا ہو تو میں اسے چھ نمبر دوں گا۔ امن کی صورتحال اب بھی نازک ہے کیونکہ ماضی کے زخموں کو بھرنے میں وقت لگ رہا ہے۔‘

’ہم اب بھی مذہبی بنیادوں پر منقسم علاقے میں رہتے ہیں۔ ہم رونالڈ جیسے سابق کمسن سپاہیوں سے بات کرتے ہیں۔ ان کی کردار سازی اور اعتماد کی بحالی میں مدد کرتے ہیں تاکہ اس جزیرے کے لیے نئی نسل تیار کی جائے۔‘

انڈونیشیا کی تاریخ میں امبون کے لوگوں کو باہمی محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے سراہا جاتا ہے۔

اس علاقے میں عسائیت 15 ویں صدی میں اس وقت پھیلی جب پرتگالی تاجر یہاں آئے، جبکہ اسلام اس وقت پھیلا جب اس سے بھی ایک صدی قبل عرب سوداگر یہاں پہنچے تھے۔ پیلا گینڈونگ کے نام سے مشہور ایک تقریب بھی منائی جاتی ہے جس کا مقصد دونوں برادریوں کے درمیان رشتے اور قریبی ثقافتی تعلقات پر جشن منانا ہوتا ہے۔

یہاں تناؤ کئی صدیوں تک رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کا الزام ولندیزیوں پر عائد کرتے ہیں جنھوں نے سپائس جزیروں کو اپنی نوآبادی بنا لیا، اور ولندیزیوں پر معاشرے کے دو مذاہب کے ماننے والوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی کا الزام ہے۔

جیک منوپتی کو امید ہے کہ ان جزیروں کے رہنے والے اپنی پرامن روایتوں کو اپنائیں گے اور دانائی کا استعمال کرتے ہوئے نئی نسل کے لیے امید کی کرن پیدا کریں گے۔

وہ خود ایک مثال بن گئے ہیں۔ ان کی امام عابدین وکانو کے ساتھ دوستی دیکھ کر منوپتی سے وہ نوجوان متاثر ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں۔

’رونالڈ میرے سے امام عبدین سے ملاقات کرنے گیا اور اس نے ایک مسلمان رہنما اور میرے درمیان بھروسے کو دیکھا، اور وہ بھی ان پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ میری ذاتی ضمانت پر ہم نے اپنے گروپ کا دائرا پھیلایا اور اسے ایک اور گروپ کے ساتھ جوڑ دیا۔‘

انہی ملاقاتوں کے دوران رونالڈ کی ملاقات ایک اور سابق کمسن جہادی اسکندر کے ساتھ ہوئی۔

’جب یہ دونوں واپس اپنی برادری میں گئے تو انھیں ان لوگوں نے گھیر لیا جو اب بھی ان سے نفرت کرتے تھے۔ تو ہم انھیں ایک دوسرے کے گھروں میں لے گئے۔‘

’ہم رونالڈ کو ملسمانوں کے پاس لے گئے جبکہ مسلمان کو مسیحی خاندان کے پاس ہی رہنے دیا۔۔۔انھیں روزمرہ کی زندگی کا تجربہ کرنا تھا اور ان کے پاس موقع تھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملیں۔‘

عابدین کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے تجربے سے رونالڈ نے ان داڑھی والے افراد کو سمجھنا شروع کیا جنھیں وہ کبھی ظالم جہادی سمجھتا تھا، اسے اندازہ ہوا کے یہ عام لوگ ہی ہیں۔‘

’بہت سی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو سمجھنے لگے۔ انھیں احساس ہوا کے وہ ایک جیسے تجربے سے ہی گزرے ہیں۔ ان لوگوں کا سامنا کرنے سے جنھیں وہ اپنا بدترین دشمن سمجھتے تھے۔ وہ خلیج کو عبور کرنے والے ایک دوسرے کے دوست اور امن کے داعی بن گئے۔

’پیس پرووکیٹرز‘ کے زیراہتمام بہت سرگرمیاں ثقافت پر مبنی تھیں۔ آج کل رونالڈ اپنے مسلمان دوستوں کو رقص کے لیے بلاتے ہیں اور ہپ ہاپ ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں ایک ڈانسر ہوں اس لیے میں دوستوں کو ڈانس، مصوری اور ایک ساتھ نظمیں بنانے کے لیے بلاتا ہوں۔‘

اس بارے میں عابدین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امن کے بیانیے کے لیے زبان کو تبدیل کرنا پڑا تاکہ جنگ کے بیانیے کا مقابلہ کیا جائے۔ ہم نے ایسا شاعری کے ذریعے کیا، ہم نے ایسا مسیقی کی شاعری کے ذریعے کیا۔ اس طرح کی زبان نوجوانوں کے بہت قریب ہے۔‘

’ہم انھیں قریب لاتے ہیں اور موسیقی بناتے ہیں۔ اس سے مثبت توانائی پھیلتی ہے۔ امن کے سفیر کا کردار آپ کے ذہنوں میں تبدیلی لانا اور دوسروں کو آپ کے قریب لانا ہے۔ یہ ایک نئی بولی ہے لیکن طاقتور ہے۔‘

بہت سے کمسن جنگجو اس لڑائی میں نہیں بچے اور دیگر تشدد کی زندگی مجبور مجرموں کے طور پر گزارنے لگے۔ سینکڑوں سابق کمسن جنگجوؤں میں سے صرف 50 امن کے سفیر بنے۔

رونالڈ اور اسکندر ان میں سے دو ہیں۔ یہ دونوں ہی اب سوشل میڈیا پر امن پھیلانے کا کام کرتے ہیں، نفرت پھیلنے سے روکتے ہیں اور ان لوگوں کو قریب لانے میں مدد کرتے ہیں جو کبھی ایک دوسرے کے خلاف لڑتے تھے۔


اسی بارے میں