ٹورونٹو: مشتبہ حملہ آور ایلک میناسیان کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ ALEK MINASSIAN/LINKEDIN
Image caption پولیس نے ایلک میناسیان کو حملے کے آدھ گھنٹے بعد گرفتار کر لیا تھا

پولیس نے ٹورونٹو میں راہگیروں کو وین سے کچلنے والے 25 سالہ مشتبہ فرد کا نام ایلک میناسیان بتایا ہے۔

میناسیان ٹورونٹو کے شمال میں واقع علاقے رچمنڈ ہل کے رہائشی ہیں۔ اس واقعے سے پہلے پولیس کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

مزید پڑھیئے

ٹورونٹو: ’ڈرائیور نے جان بوجھ کر لوگوں کو روندا‘، 10 ہلاک

لندن ’دہشت گردی‘: مسجد کے باہر وین نے لوگ کچل دیے

بارسلونا: دہشت گرد حملے کا اہم ملزم فائرنگ سے ہلاک

بارسلونا: پولیس مبینہ وین ڈرائیور کی تلاش میں مصروف

پیر کو ٹوروٹو کی مصروف ترین سڑک ینگ سٹریٹ میں ایک سفید وین نے کئی راہگیروں کو کچل دیا تھا جن میں سے 10 ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد پولیس نے مینا سیان کو گرفتار کر لیا تھا۔

ایک لِنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ سینیکا کالج کے طالب علم تھے جو حملے کی جگہ کے قریب ہی واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ینگ سٹریٹ جہاں وین کے نیچے لوگوں کو کچلا گیا ٹورونٹو کی مصروف ترین شاہراہ ہے

دی گلوب اینڈ میل اخبار نے کالج میں میناسیان کے ساتھی طالب علم سے بات کی ہے جو کہ بتاتے ہیں کہ مینا سیان کمپیوٹر کا ماہر تھا۔

طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ میناسیان سماجی طور پر عجیب سی شخصیت کے مالک تھے تاہم انھوں نے کبھی ایسا ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ ان کی کوئی انتہا پسندانہ سوچ یا نظریہ ہے۔

میناسیان کے سابق کلاس فیلوز نے بتایا کہ وہ تھورن لی سیکنڈری سکول میں ’سپیشل نیڈز‘ یعنی مخصوص ضروریات رکھنے والے بچوں کے پروگرام میں شامل تھے اور سماجی شخصیت نہیں تھے۔

شیرین چامی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ „وہ سر جھکائے، ہاتھ باندھے، بلی کی طرح آوازیں نکالتے نظر آتے تھے۔ تاہم وہ پرتشدد ہر گز نہیں تھے‘۔

'جہاں تک مجھے یاد ہے وہ بالکل بے ضرر تھے۔'

ابھی تک حملے کا کوئی مقصد سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم پولیس کے سربراہ مارک سانڈرز کا کہنا ہے کہ ان کا عمل بالکل سوچ سمجھ کر کیا گیا لگتا ہے۔

انتظامیہ نے کسی بڑے خطرے کے خدشے کو رد کیا ہے اور پبلک سیفٹی کے وزیر رالف گڈال کہتے ہیں کہ بظاہر قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سی بی سی کے مطابق سرکاری اہلکار کہتے ہیں کہ میناسیان کا کسی جانے پہچانے دہشت گرد گروہ سے تعلق نہیں تھا۔ لیکن میناسیان کے ارادے کے متعلق انٹرنیٹ پر قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

این بی سی نیوز کے رپورٹر جوناتھن ڈیئنسٹ نے ٹویٹ کیا کہ ’میناسیان نے مبینہ طور پر 2014 کے کیلیفورنیا قتلِ عام کے متعلق تحقیق اور انٹرنیٹ پر چیٹ کی تھی‘۔

این بی سی کے ایک اور رپورٹر ٹام ونٹر نے ٹویٹ کیا کہ ’یہ اطلاع قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی طرف سے آئی ہے اور قیاس آرائی نہیں ہے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں