گولڈن ٹیمپل کو گولڈن مسجد لکھنے پر سفارتکار کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے

برطانیہ کے ایک سینیئر ترین سفارتکار نے سکھ مذہب کے مقدس مقامات میں سے ایک کو غلطی سے مسجد کہنے پر معافی مانگی ہے۔

سر سائمن مکڈونلڈ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کے ایک ساتھی کو امرتسر، انڈیا میں ملکہ کی 'سنہری مسجد' میں لی گئی تصویر دی گئی تھی۔

مزید پڑھیئے

خالصتان کا مسئلہ اب کیوں اٹھ رہا ہے؟

ٹروڈو کے ’بالی وڈ ملبوسات‘ کے چرچے

مودی شنزو آبے کو مسجد کیوں لے کر گئے؟

ان کے مطابق وہ لکھتے ہوئے یہ بھول گئے کہ مسجد تو مسلمانوں کی عبادت کی جگہ ہے جبکہ سکھوں کی عبادت کی جگہ تو گرو دوارہ ہوتا ہے۔

انھوں نے بعد میں اپنے آپ کو درست کیا اور کہا کہ انھیں گولڈن ٹیمپل یا شری ہرمندر صاحب کہنا چاہیے تھا۔

پنجاب کی ریاست میں واقع گولڈن ٹیمپل سکھوں کے لیے زیارت کا اہم مقام ہے اور اسے 16 ویں صدی میں چوتھے سکھ گرو رام داس نے بنوایا تھا۔

ملکہ برطانیہ نے 1997 میں اس کا دورہ کیا تھا۔ اس سے تیرہ سال قبل انڈین فوج نے اس پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جسے انڈیا کی تاریخ کا ایک بہت متنازع واقعہ کہا جاتا ہے۔

انڈین حکومت کے مطابق اس آپریشن میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سکھ گروہوں کا کہنا ہے کہ 1000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈپلومیٹک سروس کے سربراہ سر سائمن کی ٹویٹ نے برطانوی سکھ برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور بہت سے افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

'سٹی سکھس' تنظیم کے رہنما جسویر سنگھ کہتے ہیں: 'اکثر سکھوں کو مسلمان سمجھا جاتا ہے اور برطانوی معاشرے میں عمومی طور پر مذاہب کے متعلق آگاہی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

'تاہم یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ ملک کے سب سے سینیئر ترین سفارتکاروں میں سے ایک مشہور گرو دوارے کو جسے حروفِ عام میں گولڈن ٹیمپل کہا جاتا ہے مسجد کہہ بیٹھیں۔ یہ بہت شرمندگی کی بات ہے اور ناقابلِ معافی ہے۔'

سر سائمن نے انڈیا کے شمالی شہر سے کافی ٹویٹ بھیجے ہیں جہاں وہ سیاستدانوں اور طالب علموں سے مل رہے ہیں۔

لگتا ہے کہ مسجد والا ٹویٹ ملکہ برطانیہ کی سالگرہ منانے کے لیے منعقد کی گئی ایک پارٹی سے کیا گیا جہاں پنجاب کی ریاست کے گورنر بھی موجود تھے۔

دریں اثناء لیڈز یونیورسٹی کے تحقیق کار ڈاکٹر جسجیت سنگھ نے کہا ہے کہ ’کہیں سر سائمن روشڈیل میں واقع مسجد کے متعلق تو نہیں سوچ رہے تھے جسے گولڈن مسجد کہا جاتا ہے‘۔

متعلقہ عنوانات