ترکی: 13 صحافیوں کو ’دہشت گردی‘ کے الزام میں جیل کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخبار جمہوریت کا عملہ ترکی میں عدالت کے باہر احتجاج کر رہا ہے

ترکی میں عدالت نے 13 صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سزا سنائی ہے اور اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے حوالے سے تنقید شروع ہو گئی ہے۔

ان صحافیوں کی تعلق ترکی کے 'جمہوریت' اخبار سے ہے جس نے رجب طیب اردوغان کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔

سزا پانے والے صحافیوں کے علاوہ دیگر تین صحافیوں کو بری کر دیا گیا ہے۔ سزا یافتہ صحافی اس وقت آزاد ہیں اور انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

ان تمام صحافیوں کو جولائی 2016 میں ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد صحافیوں پر لگائی جانے والی پابندیوں اور گرفتاریوں کے بارے میں پڑھیے

ترکی: بغاوت سے تعلق پر چھ صحافیوں کو عمر قید کی سزا

ترک صدر کے ناقد کو سپین میں گرفتار کر لیا گیا

ترکی میں جمہوریت اخبار کے نو صحافی زیرِ حراست

ترک صحافی ٹویٹ کرنے کی پاداش میں گرفتار

سزا پانے والے صحافیوں میں ملک کے چند نامور مبصرین شامل ہیں جن میں اخبار کے مدیر اعلی مراد سبانکو، کالم نویس قادری گرسیل اور کارٹونسٹ موسی کارت شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 'جمہوریت' اخبار کے چیئرمین آکن اتالے کو سات سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ وہ 500 پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں۔

ترکی کے حکام نے ’جمہوریت‘ میں کام کرنے والوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں جنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک اخبار جمہوریت کے 13 صحافیوں کو عدالت نے جیل کی سزا سنا دی ہے

ان میں کردستان ورکرز پارٹی، انتہائی بائیں بازو کی جماعت پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ اور دینی عالم فتح اللہ گولن شامل ہیں جن پر ترک حکومت اُس ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتی ہے۔

فتح اللہ گولن خود ساختہ جلا وطنی کے بعد امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور ترک حکومت کی درخواست کے باوجود امریکی حکام نے انھیں ترکی واپس بھیجنے سے انکار کیا ہے۔

ناکام فوجی بغاوت کے بعد 50000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے علاوہ 150000 افراد کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا تھا کیونکہ ان پر شک تھا کہ انھوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا اور اس کی حمایت کی تھی۔

ان افراد میں صحافی، اساتذہ، پولیس افسران، سرکاری اہلکار اور فوجی حکام شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخبار کے مدیر اعلی مراد سبانکو بھی سزا یافتہ صحافیوں میں شامل ہیں

واضح رہے کہ جمہوریت اخبار 1924 میں قائم کیا گیا تھا اور ملک میں صحافتی اداروں میں سرکاری مداخلت کے باوجود اس نے آزادنہ موقف اختیار کیا تھا جو کہ ترک صدر اردوغان کا ناپسند تھا۔

اخبار نے فیصلے سے قبل اپنے صفحہ اول پر اداریے شائع کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ 'بس بہت سفاکی ہوگئی۔' فیصلہ آنے کے بعد اخبار کی ویب سائٹ پر لکھا گیا: 'تاریخ میں آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

یاد رہے کہ صدر اردوغان پر ملک میں آزادی صحافت پر قدغن لگانے کا الزام ہے۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی برائے تحفظ صحافی (سی پی جے) نے بھی اس فیصلے کے بعد ترک حکومت پر آزادی صحافت سلب کرنے کا الزام لگایا ہے اور سزا یافتہ صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں