’اگر شمالی کوریا کے فوجیوں نے کوئی کارروائی کی تو آپ کی حفاظت کی گارنٹی نہیں دے سکتے‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’اگر شمالی کوریا کے فوجیوں نے کوئی کارروائی کی تو اقوام متحدہ کمانڈ، امریکی فورسز اور جنوبی کوریا کی فورسز آپ کی حفاظت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔‘

جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان ڈی میلیٹرائزڈ زون یعنی ڈی ایم زیڈ میں واقع گاؤں ’پنمون جوم‘ میں جب 13 ایشیائی صحافی پہنچے تو امریکی سارجنٹ نے ان الفاظ کے ساتھ 1997 میں ان کا خیر مقدم کیا۔

ایشیائی صحافیوں کو جنوبی کوریا کی حکومت نے چار ہفتوں کی ایک فیلو شپ پر مدعو کیا تھا اور پنمون جوم کا دورہ اسی کا حصہ تھا۔

پنمون جوم کی جانب سیول سے روانہ ہونے سے اس علاقے سے قبل ایک پُل تک پہنچنے تک ہمارے میزبان ہر پانچ منٹ کہتے ’وہاں پر تصاویر نہیں لے سکتے۔ اگر لینی ہے تو پہلے وہاں پر تعینات امریکی یا جنوبی کوریا کے فوجیوں سے اجازت لیجیے گا۔‘

لیکن ہم صحافی کہاں سے یونیورسٹی کے میزبان کی بات سننے والے تھے۔ پنمون جوم میں داخل ہونے سے قبل ایک پُل آیا جہاں بڑا بڑا لکھا تھا کہ ’اس پوائنٹ سے آگے تصاویر بنانا ممنوع ہے‘۔

کوریا

ہم نے چینی انگریزی اخبار کے صحافی کو پہلی نشست پر بٹھایا اور اس کے ہاتھ میں کیمرے تھما دیے۔ ایسا کیوں کیا؟ شروع دن ہی سے وی آئی پی صحافی اگر کوئی تھے تو دو ہی تھے۔ ایک چینی انگریزی اخبار کا صحافی اور دوسرا منگولیا کی انگریزی اخبار کا نیوز ایڈیٹر۔

چینی صحافی کے ہاتھ میں کیمرے دیکھ کر میزبان بھی تھوڑا خاموش ہو گیا اور ہمارا کام بھی ہو گیا۔

پنمون جوم پہنچنے پر کوریائی زبان میں عجیب سے آوازیں کانوں پر پڑیں۔ ہم نے میزبان سے کہا کہ آپ نے ہمیں کوریائی زبان کے سبق تو دیے ہیں اور ہمیں اتنی زبان آ گئی ہے کہ شاپنگ کر سکیں لیکن اس آواز کا ترجمہ آپ ہی کر سکتے ہیں۔

ہمارے میزبان نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے لاؤڈ سپیکرز پر پروپیگنڈا ہو رہا ہے جس میں وہ جنوبی کوریا کے لوگوں کو اپنے ملک میں ترقی اور خوشحالی کے بارے میں بتاتے ہوئے شمالی کوریا آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

ہم اس پروپیگنڈے کا ترجمہ سنتے ہوئے فوجی بیرک میں داخل ہوئے ہی تھے کہ انگریزی میں بھاری آواز میں سارجنٹ سوئر نے تین صحافیوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا ’آپ، آپ اور آپ ڈی ایم زیڈ کا دورہ نہیں کرسکتے آپ کو اس بیرک میں ہی رہنا ہو گا جب تک کہ باقی صحافی دورہ کر کے واپس نہ آ جائیں۔‘

جوائنٹ سکیورٹی ایریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ سنتے ہی ہمارے اندر کا تجزیہ نگار حرکت میں آ گیا کہ آخر کیوں ان تین صحافیوں کو روکا جا رہا ہے۔

ہم سب ایک دوسرے سے اس حکم کے بارے میں استفسار کر رہے تھے اور سارجنٹ سوئر کے ہمراہ ایک اور امریکی فوجی نے فارم ہم کو دینے شروع کیے۔

ہم نے پہلے اس سارجنٹ سے پوچھا کہ کیوں ان صحافیوں کا جانے کی اجازت نہیں ہے تو انھوں نے بتایا کہ ’ڈی ایم زیڈ میں جس کمرے میں آپ جائیں گے اس کی ایک جانب شمالی کوریا کے فوجی ہوں گے۔ ان تین صحافیوں نے جینز پہنی ہوئی ہیں جن میں سے ایک کی جینز گھٹنے سے پھٹی بھی ہوئی ہے۔ شمالی کوریا کے فوجی تصاویر لے کر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ان کو کپڑے پہننے کا سلیقہ نہیں۔‘

کافی بحث مباحثے کے بعد ہم نے ان تین صحافیوں کو بیٹھنے کو کہا اور ہم فارم پُر کرنے لگ گئے۔ سب سے اوپر ہی لکھا تھا کہ ’اگرچہ اس کا امکان نہیں ہے لیکن اگر شمالی کوریا کے فوجی کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی کمانڈ، امریکی اور جنوبی کوریا کی فورسز آپ لوگوں کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ہوں گے۔‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ فارم پر وہ چیزیں درج تھی جو ہم ڈی ایم زیڈ میں نہیں کر سکتے۔ ان میں بڑی بڑی ممنوعہ حرکات یہ تھیں:

  • شمالی کوریا کے فوجیوں سے بات کرنا یا کسی قسم کا اشارہ کرنا منع ہے
  • شمالی کوریا کے فوجیوں کی جانب اشارہ کرنا، اشارے کرنا یا کوئی ایسی حرکت کرنا جس کو شمالی کوریا پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کر سکے

جس علاقے سے کم جون اُن جنوبی کوریا میں داخل ہوئے ہیں اس کو جوائنٹ سکیورٹی ایریا کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نیوٹرل ایریا ہے لیکن اس کے ایک جانب اقوام متحدہ کمانڈ کے فوجی ہوتے ہیں (یعنی جنوبی کوریا کی جانب) اور شمال کی جانب شمالی کوریا کے فوجی پہرہ دیتے ہیں۔

جوائنٹ سکیورٹی ایریا میں داخل ہونے تک فوٹوگرافی سے سختی سے منع کیا گیا تھا اور صاف بات ہے سارجنٹ سوئر کی بھاری آواز کے سامنے کسی بھی صحافی بشمول وی آئی پی صحافیوں کے کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ تصویر کھینچیں۔

جوائنٹ سکیورٹی ایریا میں واقع ایک کمرے میں داخل ہوئے تو ایک جنوبی کوریا کا فوجی کمرے کے بیچ میں اور ایک اس دروازے کے سامنے جو شمالی کوریا کی جانب کھلتا تھا وہاں تعینات تھا۔

جوائنٹ سکیورٹی ایریا تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جلد ہی میں ہم نے دیکھا کہ شمالی کوریا کے فوجی کھڑکیوں پر آ کر ہمیں دیکھنے لگے۔ کوئی ہماری تصویر بنائے تو کوئی ہماری جانب دیکھ کر مسکرائے۔ اگر ایک فوجی سنجیدگی سے ہمارے طرف دیکھ رہا تھا تو ایک فوجی ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہہ رہا تھا۔

جیسے جیسے شمالی کوریا کے فوجیوں کی ان حرکتوں میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے سارجنٹ سوئر کی آواز میں کرختگی آتی گئی۔

دس یا پندرہ منٹ کی بریفنگ دی گئی جس کے دوران میں سوچ رہا تھا کہ دونوں ممالک کے پروپیگنڈے کرنے میں فرق کیا ہے۔ ’اگر شمالی کوریا لاؤڈ سپیکر پر کر رہا ہے تو جنوبی کوریا میں بغیر لاؤڈ سپیکر کے کیے جا رہا ہے۔‘

بریفنگ سننے کے بعد ہمیں ایک اور مقام پر لے جایا گیا جہاں سے ہمیں وہ علاقہ دکھایا گیا جو کہ دونوں کوریا میں آنے جانے کا واحد راستہ ہے جہاں ایک پُل تھا۔ سارجنٹ سوئر کے مطابق اس پُل کو ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ کہا جاتا ہے۔

ڈی ایم زیڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’جس شخص نے بھی اس پر قدم رکھ دیا تو وہ اپنے ملک کے لیے غدار ہو گیا۔ جتنے لوگ بھی شمالی کوریا کو چھوڑ کر جنوبی کوریا یا جنوبی کوریا کو چھوڑ کر شمالی کوریا جاتے ہیں وہ اسی پل سے جاتے ہیں۔‘

اس پورے دورے کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے بڑے بڑے لاؤڈ سپیکرز سے کافی گانوں اور کبھی تقاریر کی آوازیں آتی رہیں۔

ایک جگہ رک کر سارجنٹ سوئر نے شمالی کوریا کے کیجونگ ڈونگ نامی گاؤں میں بلند و بالا شمالی کوریا کے جھنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’شمالی کوریا نے ہمیشہ ہی سے اس بات کو بہت اہمیت دی ہے کہ اس علاقے میں اس کا جھنڈا ہمیشہ جنوبی کوریا کے جھنڈے سے بلند ہو۔ 80 کی دہائی میں جنوبی کوریا کا جھنڈا جس پول پر لہرا رہا تھا وہ گرنے کے قریب تھا اس کو تبدیل کیا گیا۔ پہلے اس پول کی لمبائی ڈیڑھ سو فٹ کے آس پاس تھی لیکن جب نیا پول نصب کیا گیا تو اس کی لمبائی 300 فٹ سے زیادہ تھی۔‘

سارجنٹ سوئر نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس پول کے نصب ہونے کے چند ہی روز میں شمالی کوریا نے پول کی لمبائی ساڑھے پانچ سو فٹ کر دی۔

جب گذشتہ برس ہی انڈیا نے لاہور سے متصل اٹاری سرحد پر 360 فٹ بلند پول نصب کر کے اس پر جھنڈا لہرایا تھا جبکہ اسی سال اگست میں پاکستان کی جانب سے اٹاری کے بالکل سامنے واہگہ سرحد پر 380 فٹ اونچے پول پاکستانی پرچم نصب کیا تھا تو مجھے کوریا یاد آ گیا۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں