پیرو: انسانی تاریخ میں بچوں کی ’سب سے بڑی قربانی‘ کے شواہد

تصویر کے کاپی رائٹ GABRIEL PRIETO/NATIONAL GEOGRAPHIC
Image caption اس دریافت کے ذمہ دار محقق جان ویرانو کا کہنا تھا کہ 'مجھے تو ایسا کچھ ملنے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ اور میرے خیال میں ہماری ٹیم میں کسی اور کو بھی نہیں ہوگی۔'

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں ایک دریافت کی ہے جو کہ ممکنہ طور پر انسانی تاریخ میں بچوں کی قربانی دینے کا سب سے بڑا واقعہ ہو سکتا ہے۔

پیرو کے شمالی ساحلی علاقے میں ماہرین نے ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس میں اندازوں کے مطابق 550 سال قبل 140 بچوں کی قربانی دے کر انھیں دفن کیا گیا تھا۔

یہ دریافت شہر تروہیلو کے قریب کی گئی ہے جو کہ قدیم شمئو تہذیب کے وسطیٰ مقام کے قریب ہے۔

ان بچوں کے ساتھ سو لاماز کو بھی وہاں دفنایا گیا تھا اور بظاہر یہ سب ایک ہی موقعے پر ہلاک کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں لڑکی کی ’قربانی‘ پر تین افراد گرفتار

جمرود میں آثار قدیمہ کی اہم دریافت

یہ نایاب دریافت نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کی گرانٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔

اس دریافت کے ذمہ دار محقق جان ویرانو کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو ایسا کچھ ملنے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ اور میرے خیال میں ہماری ٹیم میں کسی اور کو بھی نہیں ہوگی۔‘

2011 میں اسی مقام کے قریب انسانی قربانی کے پہلے شواہد ملے تھے جب وہاں سے 40 افراد اور 74 لاماز کی باقیات ملی تھیں اور یہ اس وقت پتا چلا تھا جب ایک 3500 سال پرانی عبادت گاہ کی کھدائی کی جا رہی تھی۔

نیشنل جیوگرافک کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق قربان کیے گئے یہ 140 بچے 5 اور 14 سال کی عمر کے درمیان تھے تاہم ان میں سے زیادہ کی عمریں 8 سے 12 کے درمیان تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GABRIEL PRIETO/NATIONAL GEOGRAPHIC
Image caption بہت سے بچوں کے جسم پر شوخ لال رنگ بھی لگایا گیا تھا اور قوی امکان ہے کہ یہ قربانی کی رسم کا ایک حصہ تھا۔

ان بچوں کی انسانی قربانی ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی ہڈیوں کو ایک مخصوص انداز میں مخصوص مقامات سے کاٹا گیا ہے اور کچھ کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے دل نکال لیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ بہت سے بچوں کے جسم پر شوخ لال رنگ بھی لگایا گیا تھا اور قوی امکان ہے کہ یہ قربانی کی رسم کا ایک حصہ تھا۔

بچوں کے ہمراہ دفن کیے گئے لاماز کو بھی اسی طرح تیار کیا گیا تھا۔ ان سب کی عمر 18 ماہ سے کم تھی اور سب کے چہرے مشرق کی طرف اینڈیز پہاڑوں کی جانب کر کے دفن کیا گیا تھا۔

اس تحقیق سے منسلک ایک اور محقق گیبریئل پریئتو کا کہنا تھا کہ ’جب لوگو اس کے متعلق سنتے ہیں کہ کیا ہوا، اور یہ کہ کتنے بڑے پیمانے پر ہوا، تو وہ پہلی چیز یہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا۔‘

اس سوال کا جواب مکمل یقینی کے ساتھ تو نہیں دیا جا سکتا مگر اس حوالے سے کچھ اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔

مٹی کی جس تہہ میں یہ بچے دفن کیے گئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ شدید بارش اور سیلاب سے بنی ہو۔ اس علاقے کا عمومی طور پر موسم سخت گرم رہتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ سخت موسمی حالات کے پیشِ نظر یہ قربانی دی گئی ہو۔

نیشنل جیوگرافک کے بائیو آرکیالوجسٹ (ماہرِ حیاتیات برائے آثارِ قدیمہ) ہاگن کلاؤس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جب عام لوگوں کو قربان کرنے سے موسم میں بہتری نہیں آئی تو پھر پچوں کی قربانی دی گئی ہو۔

اسی بارے میں