’شمالی کوریا اپنی جوہری سائٹ مئی میں بند کر دے گا‘

پنگیئی ری جوہری سائٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پنگیئی ری جوہری سائٹ کی سیٹلائٹ سے لی گئی ایک تصویر

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری تجربات کی سائٹ کو مئی میں بند کر دے گا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ’آئندہ تین سے چار ہفتوں میں‘ بات چیت ہو سکتی ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پنگيئی ری سائٹ کو باضابطہ طور پر بند کیا جائے گا اور جنوبی کوریا اور امریکی ماہرین کو اس کے معائنے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی ترجمان یون ینگ چان نے کہا کہ کم جونگ ان نے کہا ہے کہ وہ مئی میں جوہری سائٹ کو بند کریں گے۔

مسٹر یون نے مزید کہا کہ شمالی کوریائی رہنما نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی جنوبی کوریا اور امریکہ کے ماہرین کو مدعو کریں تاکہ وہ بند کرنے کے عمل کو بین الاقوامی برادری کے سامنے شفافیت کے ساتھ پیش کریں۔

صدر کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے وقت کے ساتھ اپنی گھڑی ملائے گا۔ ابھی شمالی کوریا جنوبی کوریا کے مقابلے اپنا مقامی وقت نصف گھنٹے پہلے رکھتا ہے۔

شمالی کوریا نے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھیں گے‘

’اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

کم جونگ ان چین میں کیا کرتے رہے؟

پنگيئی ری سائٹ ملک کے شمال مشرقی پہاڑی علافقے میں قائم ہے اور یہ ملک کی اہم ترین جوہری تنصیب کہی جاتی ہے اور اس کے پاس مینٹاپ پہاڑ کے اندر سرنگوں میں بنے نظام میں جوہری تجربات کیے گئے ہیں۔

شمالی کوریا سنہ 2006 سے اب تک چھ بار جوہری تجربات کر چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ’آئندہ تین سے چار ہفتوں میں‘ بات چیت ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ملاقات ہوگی، جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بات ہوگی۔

جبکہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پوم پےاو کہا کہ حال ہی میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ پیانگ یانگ میں ان کی ’اچھی ملاقات‘ رہی۔

جمعے کو کم جونگ اُن اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

دونوں کوریائی ممالک کے درمیان سربراہی کانفرنس شمالی کوریا سے جنگی دھمکیوں کے چند ماہ بعد ہوئی ہے۔

کوریا کی سنہ 1953 کی جنگ کے بعد کم جونگ ان پہلے شمالی کوریائی سربراہ ہیں جنھوں نے جنوبی کوریا میں قدم رکھا ہے۔

ایک عرصے تک پیانگ یانگ اس بات پر بضد رہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرے گا اور اس کا کہنا ہے کہ اسے امریکی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: ’میرے خيال سے آنے والے تین سے چار ہفتوں میں ہماری ملاقات ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملاقات منگولیا یا پھر سنگاپور میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کوریائی جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر کامیاب مذاکرات کریں گے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’شمالی کوریا کے فوجیوں نے کارروائی کی تو ۔۔۔‘

جزیرہ نما کوریا میں ’امن کے لیے نئے دور کا آغاز‘

امریکی حکام ابھی تک یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کہاں رکھی جائے۔ تاہم اس کے لیے دو ممالک منگولیا اور سنگاپور کا نام سامنے آ رہا ہے۔

کم جونگ ان اور مون جے ان نے کہا کہ وہ امریکہ اور چین کے ساتھ مل کر باضابطہ طور پر سنہ 1953 کی جنگ کو ختم کریں گے۔ اس جنگ کا خاتمہ جنگ بندی پر ہوا تھا لیکن امن کی مکمل بحالی نہیں ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو کم جونگ اُن اور جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی

جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عہد کا مطلب واضح طور پر یہ نہیں کہ شمالی کوریا اپنی جوہری سرگرمی روک دیگا لیکن اس کا مقصد کوریائی جزیرہ نما کو جوہری ہتھیار سے پاک کرنا ہے۔

بیان میں اسے پر مرحلہ وار طریقے سے کام کرنے کی بات کہی گئی ہے اور مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ بیان میں جن دیگر امور پر اتفاق کیا گیا:

  • دونوں ملکوں کے درمیان 'جارحانہ سرگرمیوں' کا خاتمہ۔
  • پروپیگینڈہ نشریات بند کرتے ہوئے دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والے 'غیر فوجی علاقے' کی 'امن کے علاقے' میں تبدیلی۔
  • خطے میں فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسلحے میں کمی۔
  • سہ فریقی مذاکرات میں امریکہ اور چین کی شمولیت کی کوششیں۔
  • جنگ کے بعد تقسیم ہونے والے خاندانوں کے ملاپ کا انعقاد۔
  • ریل کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑنا اور ریل کے نیٹ ورک کی بہتری۔
  • رواں برس ایشیائی کھیلوں کے علاوہ کھیلوں کے دیگر مقابلوں میں مشترکہ شمولیت۔

اسی بارے میں