بن یامین نتن یاہو کے الزامات فرسودہ، بے کار اور شرمناک ہیں: ایرانی وزارت خارجہ

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu speaks to media in Tel Aviv, 30 April تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایران نے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے اسرائیلی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کو ایک ’بدنام جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بحرام قاسمی نے کہا ہے کہ بنیامین نتن یاہو کے الزامات ’فرسودہ، بے کار اور شرمناک ہیں۔‘

ادھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ بنیامین نتن یاہو کا یہ اقدام امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش تھی جس میں انھوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ جوہری معاہدے کے ساتھ رہیں یا نہیں۔

اس بارے میں یہ بھی پڑھیے

امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئی پابندیاں عائد کریں گے‘

ایران: اسرائیل سے دوستی ختم کریں، سعودی عرب سے مطالبہ

سعودی عرب اور اسرائیل کی یہ بڑھتی قربت کیوں؟

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات انہی الزامات پر مبنی ہیں جو پہلے ایران کے جوہری پروگرام کی تحقیقات کرنے والی بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی دیکھ چکی ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پوم پے او نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کیے جانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے جھوٹ بولا تھا۔

مائیک پوم پے او کا کہنا تھا کہ ان فائلوں سے حاصل ہونے والی معلومات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے میں اعتماد کی کمی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو منسوخ کر دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ 12 مئی کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ برقرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب ایرن نے اسرائیل کی جانب سے ’ان دستاویزات کو پرانے الزامات کو نیا بنا کر پیش کرنا قرار دیا ہے۔‘

اس سے پہلے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی تھیں جن کے مطابق ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی۔

ادھر ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف پرامن ایٹمی توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ’پراجیکٹ آماد‘ کوڈ کے تحت سنہ 2003 تک خفیہ ہتھیارں کا انتظام کرتا رہا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ’پراجیکٹ آماد‘ کے بند ہو جانے کے بعد بھی جوہری ہتھیار بنانے کا کام جاری رکھا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے نتن یاہو کے بارے میں کہا کہ یہ ان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قبل متاثر کرنے کا ’بچگانہ ہتھکنڈا‘ ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں کیے جانے والے اس معاہدے کے ناقد ہیں، کہا ہے کہ انھوں نے نتن یاہو کی پریزنٹیشن کا ایک حصہ دیکھا ہے اور یہ صورتِ حال 'ناقابلِ قبول' ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ 12 مئی کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ برقرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

امریکی ایوانِ صدر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو نے جو معلومات دی ہیں وہ اس سے مطابقت رکھتی ہیں جو امریکہ کو ایران کے خفیہ ایٹمی اسلحہ پروگرام کے بارے میں پہلے سے حاصل کردہ معلومات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

مائیک پوم پے او نے کیا کہا؟

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پوم پے او نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے اندر سے حاصل شدہ دستاویزات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایرانی حکومت سچ نہیں بول رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے جن دستاویزات کا جائزہ لیا ہے وہ مستند ہیں۔‘ ایران نے اب تک دنیا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سے وسیع ایٹمی معلومات چھپائی ہیں۔

مائیک پوم پے او نے خبردار کیا کہ امریکہ اب ’اس بات کا اندازہ کر رہا ہے کہ ایران کی خفیہ ایٹمی فائلوں کا مستقبل میں کیا مطلب ہے؟

نتن یاہو نے کیا 'ثبوت' پیش کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارت دفاع میں انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے نتن یاہو نے دستاویزات دکھا کر کہا کہ یہ ان دستاویزات کی نقول ہیں جو اسرائیلی جاسوس ادارے نے تہران سے حاصل کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 55 ہزار صفحات اور 153 سی ڈیز پر مشتمل یہ دستاویزات ایران کے ایٹمی اسلحے کے پروگرام سے متعلق ہیں جس کا خفیہ نام 'پراجیکٹ آماد' تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پراجیکٹ کا واضح مقصد پانچ ایٹم بم تیار کرنا تھا، جن میں سے ہر ایک کی طاقت دس کلو ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوتی۔

نتن یاہو نے کہا کہ ان کی حاصل کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے اہم اجزا پر کام کیا تھا جن میں ان کا ڈیزائن اور ایٹمی تجربے کی تیاری شامل تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی تجربے کے لیے پانچ مختلف جگہوں پر غور کیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: 'ان فائلوں سے قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ایران جب یہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا تو وہ سفید جھوٹ بول رہا تھا۔'

نتن یاہو نے بتایا کہ یہ فائلیں امریکہ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں اور انھیں ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے بھی حوالے کیا جائے گا۔

2007 میں امریکی انٹیلی جنس نے 'بڑے اعتماد کے ساتھ' تخمینہ لگایا تھا کہ ایران 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کر رہا تھا، لیکن بعد میں اس نے اسے ترک کر دیا۔

سنہ 2015 کا معاہدہ ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے درمیان سنہ 2015 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں مغربی ملکوں نے اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں۔

ایسے خدشات تھے کہ ایران اس پروگرام کو جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت جسے سرکاری طور پر مشترکہ جامع عمل ایکشن (جے سی سی او اے) کا نام دیا گیا ایران سینٹری فیوجز کی تعداد میں کمی کرے گا جو مشینیں یورینیم کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کی دشمنی کنتی خطرناک ہے؟

ایران کی شام میں فوج کی موجودگی کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی مسلسل بڑھ گئی ہے۔

اسرائیل ایران پر لبنانی شیعہ مسلم عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور فلسطینی عسکریت پسندوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ایران کو شام میں اپنی فوجی قوت کو مضبوط کرنے سے روکیں گے۔

اسی بارے میں