ملائیشیا: مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین منتخب حکمران

مہاتیر محمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مہاتیر محمد کے حزب مخالف اتحاد نے 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسے حکومت بنانے کے لیے 112 نشستوں کی ضرورت تھی

ملائیشیا کے انتخابات میں فتح کے بعد سابق وزیراعظم مہاتیر محمد دنیا کے سب سے معمر منتخب حکمران بن گئے ہیں۔۔

92 سالہ مہاتیر محمد نے پندرہ برس پہلے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ تاہم 2016 میں انھوں نے یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ملائیشین پیونائیٹڈ انڈیجنس پارٹی قائم کی تھی۔

حالیہ انتخابات میں حکومتی اتحاد کے خلاف اپوزیشن کے پکاتان ہراپان اتحاد کی سربراہی مہاتیر محمد کے پاس تھی۔

وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد مہاتر محمد نے کہا کہ ان توجہ ملک کی معیشت پر ہو گی۔

یوں مہاتیر محمد نے برسرِاقتدار نجیب رزاق کے باریسن نیشنل اتحاد کو شکست دی ہے۔ یہ اتحاد گذشتہ 60 سالوں سے ملک پر حکومت کر رہا تھا۔

نجیب رزاق پر بدعنوانی اور اقرباپروری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ عوامی فیصلے کو قبول کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ون ایم بی ڈی کیس: تین نادر فن پارے ضبط

ملائیشیا: نجیب رزاق بدعنوانی کے الزامات سے بری

نجیب رزاق مستعفی ہونے سے انکاری، قومی اتحاد کی اپیل

اس موقعے پر مہاتیر محمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم بدلہ نہیں چاہتے، ہم قانون کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیسے ہی انتخابات کے نتائج واضح ہونے لگے حزب مخالف کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے

بعد میں حکومت کے ترجمان نے ملک میں جمعرات اور جمعے کو سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔

جیسے ہی انتخابات کے نتائج واضح ہونے لگے حزب مخالف کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتدار کی منتقلی کے عمل کو بالکل آسان نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ملک میں کسی ایک جماعت نے اکثریت حاصل نہیں کی ہے اور اب یہ فیصلہ ملک کے بادشاہ کا ہے کہ حکومت کون بنائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بننے کی راہ پر ہیں

ملائیشیا کی برسرِاقتدار باریسن نیشنل اتحاد اور اس کی بڑی جماعت دی یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن نے 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملکی سیاست پر غالب رہی تھی تاہم حالیہ برسوں کے دوران اس کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں حزب مخالف کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں کر پائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں