ایران نے اسرائیل پر راکٹ داغ کر حد پار کر دی ہے: بنیامین نیتن یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر راکٹ داغ کر 'حد پار کر دی ہے۔' جبکہ ان کے مطابق ایران کی کارروائی کا موثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔

بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی ڈیفینس فورسز نے شام میں ایرانی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے اپنی سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے حملے اور دفاع دونوں ہی کو بہتر انداز میں ناکام بنایا گیا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایک بھی راکٹ اسرائیلی سرزمین پر نہیں گرا۔

تاہم ایران کی جانب سے اس الزام کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس کے بارے میں مزید پڑھیے

’ایران نے ہم پر حملہ کیا تو یہ شامی صدر کا اختتام ہوگا‘

اسرائیل نے دمشق کے قریب فوجی مرکز پر حملہ کیا: شام

ایران شام اور لبنان میں میزائل فیکٹریاں بنا رہا ہے: اسرائیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد اسرائیلی میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا

اس سے قبل اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ایران کے پاسدرانِ انقلاب نے گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر اس کی پوزیشنز پر 20 راکٹ داغے، جس کے بعد اس کی سکیورٹی فورسز نے شام میں تقریباً تمام ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

راکٹ حملوں کی جوابی کارروائیوں میں ایران کے اسلحے کے ڈپو، لاجسٹک مراکز اور انٹیلیجنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

بنیامین نتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ ایک طویل مہم پر ہیں اور ان کی پالیسی واضح ہے: ’ہم ایران کو شام میں دفاعی طور پر مورچہ زن نہیں ہونے دیں گے۔‘

روس، جرمنی اور فرانس نے ایران اور اسرائیل سے پرامن رہنے کو کہا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ’اس غیر محتاط کارروائی کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر ہے، اور اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

دوسری جانب شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز کے ایئر ڈیفنس نے اسرائیلی جارحیت کی مزاحمت کرتے ہوئے اس کے بڑی تعداد میں میزائل مار گرائے ہیں۔

تاہم عسکری ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نیوز کو بتایا ہے کہ چند میزائل ایئر ڈیفنس کی بٹالینز، ریڈارز اور اسلحے کے ڈپوؤں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی فضائی کارروائیوں میں ایران کی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جمعرات کی صبح اسرائیل کے وزیر دفاع آویگڈور لیبرمن نے ایران کو خبردار کرتے ہویے کہا ہے کہ ’اگر اسرائیل میں کچھ ہوتا ہے تو ایران میں بہت کچھ ہو گا۔‘

اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کے ساتھ کہا کہ یہ ایک بڑے تنازعے کی ابتدا نہیں ہے اور’مجھے امید ہے کہ ہم نے اس باب کا خاتمہ کر دیا اور ہر ایک کو پیغام مل گیا۔

انھوں نے کہا کہ’ اسرائیل کی محاذ آرائی میں کوئی دلچسپی نہیں اور یہ کسی بھی صورتحال کے لیے تیار تھا۔ ہم ایک نئی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ایران براہ راست اسرائیل پر حملے کر رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کی خودمختاری اور علاقوں کو نقصان پنچائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گولان پر کیا ہوا؟

اسرائیل نے 1967 کی عرب جنگ میں گولان کے زیادہ تر پہاڑی سلسلے پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اسے اپنا حصہ بنا لیے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو مقبوضہ گولان پر اس کے اگلے مورچوں پر ایران کے پاسدران انقلاب کی غیر ملکی سرزمین پر کارروائی کی ذمہ دار قدس فورس نے 20 میزائل داغے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا کہ چار راکٹوں کو دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی روک دیا گیا جبکہ دیگر اپنے ہدف کے قریب گرے جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے راکٹ حملوں کا حکم دیا تاہم یہ اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکے۔

لندن میں قائم سیئریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی ہے کہ دمشق کے مضافات سے اور قنیطرہ صوبے سے مقبوضہ گولان پر درجنوں راکٹ داغے گئے تھے۔

گروپ نے راکٹ حملے کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرایا ہے تاہم کہا ہے کہ راکٹ حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیلی فورسز نے گولان کے غیر عسکری علاقے بعث پر بمباری کی۔ یہ علاقہ شامی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

شام میں ایران کی قیادت میں قائم حکومت کے حمایتی گروپ کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے پہلے فائر کیا۔

حالیہ کشیدگی

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ محاذ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب بدھ کو اسرائیل نے شامی دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ایک فوجی اڈے کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔

مانیٹرنگ گروپس کا کہنا ہے کہ حکومت کی حامی افواج میں سے پانچ فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے جن میں ایران کے حامی جنگجو بھی شامل ہیں۔

ایران شام کی سات سال سے جاری خانہ جنگی میں شامی حکومت کی مدد کر رہا ہے اور اس کے سینکڑوں فوجی مشیر اور ملیشیا کے ہزاروں ارکان اس وقت شام میں موجود ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ جہاں منگل کو حملہ ہوا وہاں ایران نے فوجی اڈہ بنا رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IMAGESAT INTERNATIONAL NV/REUTERS
Image caption اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران شام اور لبنان میں ایسے میزائل بنانے کی فیکٹریاں تعمیر کر رہا ہے

گذشتہ برس بی بی سی نے بھی خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ قصویٰ کے قریب ایران نے فوجی اڈہ بنایا ہے جسے شامی فوج استعمال کرتی ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان اس نئے تناؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے کہا کہ اس نے شام میں گولان کی پہاڑیوں میں ایران کی معمول سے ہٹ کر نقل حرکت دیکھی ہے۔

جوناتھن کونریکس اسرائیلی فوج کے ترجمان ہیں انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

منگل کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے وزیر کا کہنا تھا کہ اگر شامی صدر بشارالاسد نے ایران کو شام سے اسرائیل پر حملہ کرنے کی اجازت دی تو وہ ان کا تختہ الٹ دیں گے۔

یووال سٹائنٹز نے خبرادار کیا کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو صدر بشار الاسد کو 'معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا اور ان کی حکومت کا اختتام ہوگا۔'

ان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل حکام ایران یا اس کے حمایتیوں کی جانب سے میزائیل حملوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں