ایران جوہری معاہدہ بچانے کے لیے یورپ کی سرتوڑ کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے بعد اس معاہدے کو بچانے کی سرتوڑ سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے رابطہ کیا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات کی ہے۔

ان تمام ممالک میں سب سے شکایت فرانسیسی وزرا نے کی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر یورپی کاروباروں پر پڑے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’خوفناک‘ ہے۔

’برطانیہ، فرانس یا جرمنی پر بھروسہ نہیں، پہلے ضمانت لیں‘

ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں

جن چیزوں پر انھیں تشویش لاحق ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ معینہ مدتی معاہدہ ہے اور اس کا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں ایرانی اثر و رسوخ سے تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے 2015 میں ہونے والے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے، جو اگست اور نومبر میں نافذ کی جائیں گے۔

یورپی ممالک اس معاہدے کو جاری رکھنے کی کوششیں کیوں کر رہے ہیں؟

اس معاہدے کے تحت ایران خود پر سے پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں جوہری سرگرمیاں کم کر دے گا۔

یہ معاہدہ امریکہ، تین یورپی طاقتوں، روس اور چین کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے (جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے) سے روکنا تھا۔

امریکہ کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک کو اب بھی یہ لگتا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کا یہی بہترین راستہ ہے۔

یورپی ممالک کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر امریکی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو انھیں اربوں ڈالرز کے کاروبار کا نقصان ہوگا۔

ایران اور یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے درمیان تقریباً سو طیاروں کی فروخت کا معاہدہ بھی اس وقت خطرے میں ہے۔ ان طیاروں میں استعمال ہونے والے بعض آلات امریکہ میں بنتے ہیں۔

بڑی فرانسیسی کمپنیاں جیسے کہ ٹوٹل اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی پوژو اور رینالٹ نے بھی ایران میں سرمایہ کاری کی ہے۔

ایران پر سے 2016 میں پابندیاں اٹھانے کے بعد سے جرمنی اور فرانس کی ایران میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

یورپی ممالک اس معاہدے کو بچانے کی کوشش کیسے کر رہے ہیں؟

فرانس نے دوبارہ پابندیاں لگانے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔ معیشت کے وزیر نہ کہا ہے کہ یورپ کو اپنی ’معاشی سالمیت‘ کا دفاع کرنا ہوگا۔

انھوں نے یورپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ جوابی اقدامات دیکھیں۔

تاہم جرمنی اور فرانس کے وزرا امریکی محکمہ خزانہ سے بھی بات کر رہے ہیں تاکہ یورپی کمپنیوں کو چھوٹ مل سکے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے انھیں بتایا ہے کہ یورپ اس معاہدے کے ساتھ ’پختہ اور مخلص‘ ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر پابندیاں کیسے اثرانداز ہوتی ہیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

یورپی ممالک جوہری معاہدہ قائم رکھنے کے لیے پرعزم

صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے پر فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

سفارتی محاذ پر مزید کیا ہو رہا ہے؟

روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن کی جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے اس معاہدے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔

انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ’اسے جاری رکھنے کے بارے میں ہمیں ایران کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یک طرفہ طور پر معاہدے کو ختم کرنے سے عالمی سطح پر بھروسے کو نقصان پہنچے گا۔

دوسری جانب ہفتے کے آغاز پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف چین، روس اور برسلز کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

جبکہ آئندہ منگل کو جرمنی، برطانیہ اور فرانس وزرا خارجہ آپس میں ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں